Free English Text to Speech

1410a313-bc12-4ad0-ae3b-39273fe2ac22

بریکنگ نیوز | قلات قلات میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت بازار شام 8 بجے بند کر دیا گیا رپورٹ نائب اسرار مینگل قلات: ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ کے احکامات پر ایس ایچ او سٹی عبدالمجید رئیسانی اور ایس ایچ او صدر نے پولیس نفری کے ہمراہ قلات بازار میں سمارٹ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ انتظامیہ کی جانب سے قلات کے مرکزی بازار اور مارکیٹوں کو رات 8 بجے بند کرا دیا گیا جبکہ میڈیکل اسٹورز کو شہریوں کی سہولت کے پیش نظر کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Use these settings →

2026-04-07

1410a313-bc12-4ad0-ae3b-39273fe2ac22

ID: 08e4ba2c-889f-444f-84e1-d6e926406adb

Created: 2026-04-07T16:03:49.148Z

More Shares

22a1819e-b302-478d-ac6a-943aca999453

Neither had been used since the day he disappeared.But no body was ever recovered from the water. In the weeks that followed, small cash withdrawals were made from his bank account, suggesting movement. Alleged sightings were reported in Goa, India, in Lanzarote in the Canary Islands, in a hotel in Cardiff. Investigators followed each one. None could be confirmed. None produced any physical evidence of his presence. His family, particularly his parents and his twin sister, refused for years to accept the legal declaration of death. They held firmly to the possibility that Richey had made a deliberate choice to disappear — that somewhere, he was still alive. In 2008, thirteen years after he vanished, a Welsh court formally declared him dead. The declaration was legal, not factual. No body had been found. No definitive evidence of what happened to him had emerged. What actually happened to Richey Edwards after he checked out of that London hotel on the morning of February 1st, 1995, remains completely unknown. Jim Sullivan, Jim Sullivan was a folk musician who had moved to Los Angeles from New Jersey in the late 1960s, drawn, like so many others, by the promise of a music career in California. He was talented. He was persistent. He spent years playing small venues, building a modest following, and trying to get noticed by someone in the industry who could help him. In 1969, he finally recorded and released an album. It was self

"22a1819e-b302-478d-ac6a-943aca999453"

261a7de9-317f-4826-8de0-3559443e2480

یک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دکان دار “حسن چاچا” کی دکان بہت مشہور تھی۔ ان کی دکان میں کھانے پینے کی چیزیں، کھلونے اور سکول کا سامان ملتا تھا۔ بچے روزانہ ان کی دکان پر آتے اور خوشی سے چیزیں خریدتے۔ ایک دن ایک غریب لڑکا “علی” دکان پر آیا۔ اس کے پاس صرف چند سکے تھے۔ اس نے حسن چاچا سے کہا، “چاچا، کیا میں اس پیسے میں ایک پنسل لے سکتا ہوں؟” حسن چاچا نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، ضرور!” اچانک علی نے اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کہا، “میری ماں بیمار ہے اور میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہیں۔” حسن چاچا نے یہ سنا تو بہت اداس ہو گئے۔ انہوں نے فوراً علی کو دوائی اور کچھ کھانا دے دیا اور کہا، “بیٹا، پیسے بعد میں دینا، پہلے اپنی ماں کا خیال رکھو۔” علی بہت خوش ہوا اور دعا دینے لگا۔ کچھ دن بعد اس کی ماں ٹھیک ہو گئی۔ علی واپس آیا اور حسن چاچا کے پیسے بھی واپس کیے اور شکریہ ادا کیا۔ حسن چاچا نے کہا، “اصل خوشی دوسروں کی مدد کرنے میں ہے۔” سبق: دوسروں کی مدد کرنا سب سے بڑی نیکی ہے

"261a7de9-317f-4826-8de0-3559443e2480"

1e905a59-68e9-4889-aa8b-9931147daf21

یہ پرانے وقتوں کی بات ہے، جب پہاڑوں کے دامن میں ایک خوبصورت گاؤں بسا ہوا تھا۔ اس گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے، عورت کا نام ہنی اور مرد کا نام پریت تھا۔ پریت روزانہ جنگل جاتا، وہاں سے لکڑیاں کاٹتا اور پھر انہیں بازار میں بیچ کر اپنا گزارا کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دن ہنی پانی بھر رہی تھی کہ اچانک اس نے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ اسے اپنے چہرے پر کچھ عجیب سے داغ اور زخم نظر آئے۔ وہ بہت حیران اور پریشان ہو گئی کہ آخر یہ داغ کیسے بن گئے۔ وہ اسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ پریت گھر آیا۔ اس نے پوچھا: "ہنی! تم اتنی پریشان کیوں ہو؟" ہنی نے کہا: "پریت! ذرا میرے چہرے کو دیکھو، یہ اچانک کیسے داغ پڑ گئے ہیں؟" پریت نے اسے تسلی دی اور کہا: "ہنی، گھبراؤ مت، خدا اچھا کرے گا، ہم حکیم کے پاس چلیں گے۔" دونوں حکیم کے پاس گئے، پریت نے ساری صورتحال بیان کی لیکن حکیم کی باتوں سے ہنی کو اپنی بیماری کی سنگینی کا اندازہ ہو گیا اور وہ اندر سے ٹوٹ گئی۔ وہ اب ہر وقت خاموش اور اداس رہنے لگی۔ پریت اسے دیکھ کر بہت تڑپتا لیکن ہنی کا مرض بڑھتا گیا، یہاں تک کہ اس کے سر کے بال گرنا شروع ہو گئے اور وہ بالکل گنجی ہو گئی۔ اب ہنی کو پریت کے سامنے آنے میں شرم محسوس ہوتی تھی، وہ اس سے نظریں چراتی اور تنہائی میں بیٹھی رہتی۔ پریت اسے روزانہ تسلی دیتا کہ "میں تم سے ہر حال میں محبت کرتا ہوں"، مگر ہنی کا غم کم نہ ہوتا۔ ایک دن پریت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک ایک درخت اس پر گر پڑا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ جب یہ خبر ہنی تک پہنچی تو وہ تڑپ اٹھی۔ اس حادثے میں پریت کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور اس کی آنکھوں کی بینائی بھی چلی گئی۔ ہنی نے روتے ہوئے کہا: "پریت، مجھے بہت دکھ ہے کہ تمہاری آنکھیں چلی گئیں۔" پریت نے جواب دیا: "ہنی، تم غم نہ کرو، مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میں اندھا ہو چکا ہوں، بس تم میرے پاس رہو۔" اب ہنی کو سکون مل گیا کیونکہ اسے پریت سے چھپنے یا شرمانے کی ضرورت نہیں تھی، اسے لگتا تھا کہ پریت اسے دیکھ نہیں سکتا۔ پریت اکثر کہتا: "میں معذور ہو گیا ہوں، آنکھیں بھی نہیں رہیں، اب گھر کا خرچہ کیسے چلے گا؟" ہنی اسے دلاسا دیتی کہ "تم فکر نہ کرو، خدا اچھا کرے گا، میں محنت کروں گی۔" ہنی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی، پسائی کرتی اور جو پیسے ملتے اس سے گھر چلاتی۔

"1e905a59-68e9-4889-aa8b-9931147daf21"

← Return to Studio