Free English Text to Speech

d40c5efc-c120-44e1-90bd-0f7927b6d082

انہوں نے حرم کی خادمہ عورتوں میں سے ایک کو اعتماد میں لینا شروع کر دیا۔ وہ اس کے ہاتھ ذوکوئی کو زہر دینا چاہتی تھیں ۔ علی بن سفیان نے صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ۔ یہ سب امیر مصر (وائسرائے) کے پرانے باڈی گارڈ تھے ۔ اُن کی جگہ اُس نے ان سپاہیوں میں سے باڈی گارڈز کا رستہ تیار کر دیا جو نئی بھرتی میں آئے تھے۔ یہ جانبازوں کا منتخب دستہ تھا جو سپاہ گری میں بھی تاک تھا اور جذبے کے لحاظ سے اس کا ہر سپاہی مرد حر تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بالکل پسند نہیں تھی لیکن اس نے صلاح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بےحد تعریف کی اور اس کے ساتھ ہی درخواست کی کہ صلاح الدین ایوبی اس کی دعوت قبول کرلے ۔ ایوبی نے اسے جواب دیا کہ وہ ایک آدھ دن میں اُسے بتائے گا کہ وہ کب دعوت قبول کر سکے گا ۔ اس کے جانے کے بعد صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے مشورہ لیا کہ وہ دعوت پر کب جائے ۔ علی نے اُسے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت قبول کر لے ۔ دوسرے ہی دن صلاح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آ سکتا ہے ۔ ناجی نے تین روز بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ہو گا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا میں مشعلوں کی روشنی میں منایا جائے گا ۔ ناچ گانے کا انتظام ہو گا ۔ باڈی گارڈز کے گھوڑا سوار اپنے کرتب دکھائیں گے ۔ شمشیر زنی اور بغیر ہتھیاروں کی لڑائی کے مقابلے ہوں گے اور صلاح الدین ایوبی کو رات وہیں قیام کرایا جائے گا۔ رہائش کے لیے خیمے نصب ہوں گے ... صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رہا۔ اس نے ناچ گانے پر بھی اعتراض نہ کیا۔ ناجی نے ڈرتے جھجھکتے کہا۔ فوج کے بیشتر سپاہی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ہیں کبھی کبھی شراب پیتے ہیں ۔ وہ شراب کے عادی نہیں ۔ وہ اجازت چاہتے ہیں کہ جشن میں انہیں شراب پینے کی اجازت دی جائے ۔ آپ اُن کے کمانڈر ہیں " صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔ آپ چاہیں تو انہیں اجازت دے دیں ۔ نہ دینا چا ہیں تو میں آپ پر اپنا حکم نہیں چلاؤں گا ۔ امیر مصر کا اقبال بلند ہو " ناجی نے غلاموں کی طرح کہا میں کون ہوتا ہوں اُس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سخت نا پسند کرتے ہیں ۔ انہیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ہنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں ۔ اصلاح الدین ایوبی نے کہا " اگر شراب پی کر کسی نے ہلا گلا کیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی

Use these settings →

2026-04-05

d40c5efc-c120-44e1-90bd-0f7927b6d082

ID: b9257419-bd3e-4385-abd1-5eaae3f34a67

Created: 2026-04-05T06:54:16.463Z

More Shares

c213d81d-ec86-4dcf-827c-e15888d9f37d

بعض پرانے افسروں نے اسے ایسی نگاہوں سے دیکھا جن میں طنز تھی اور تمسخر بھی تھا۔ وہ صلاح الدین ایوبی کے صرف نام سے واقف تھے یا اُس کے متعلق یہ جانتے تھے کہ وہ حکمران خاندان کا فرد اور اپنے چا کا جانشین ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے ۔ ان کی نگاہوں میں صلاح الدین ایوبی کی اہمیت بس اس کے خاندان کی بدولت تھی یا اس وجہ سے انہوں نے اسے اہمیت دی کہ وہ مصر کا قومی وائسرائے بن کے آیا تھا ۔ اس کے سوا انہوں نے صلاح الدین ایوبی کو کوئی وقعت نہ دی ۔ ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے انسر کے کان میں کہا۔ بچہ ہے ۔ اسے ہم پال لیں گے : موتخ اور اُس وقت کے وقائع نگار یہ نہیں بنا سکتے کہ صلاح الدین ایوبی نے ان لوگوں کی نظریں بھانپ لی تھیں یا نہیں۔ وہ استقبال کرنے والے اس ہجوم میں بچہ لگ رہا تھا۔ البتہ جب دہ ناجی کے سامنے مصافحہ کے لئے رکا تو ایوبی کے چہرے پر تبدیلی سی آگئی تھی ۔ وہ ناجی سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا لیکن ناجی جو اس کے باپ کی عمر کا تھا . سب سے پہلے درباری خوشامدیوں کی طرح جھکا۔ پھر ایوبی سے بغل گیر ہو گیا۔

"c213d81d-ec86-4dcf-827c-e15888d9f37d"

← Return to Studio