یہ سوال پینڈووں کے لیے یعنی دیہات یا گاؤں میں رہنے والوں کہ لیے گاؤں میں اکثر عورتیں

یہ سوال پینڈووں کے لیے یعنی دیہات یا گاؤں میں رہنے والوں کہ لیے گاؤں میں اکثر عورتیں باہر پیشاب کرنے بیٹھتی ہیں، کیا آپ نے کسی پیشاب کرتی عورت کی ننگی بنڈ دیکھی جب وہ شلوار نیچے کر کے کمیز کمر پر چڑھا کر اپنے کولہے ننگے کر کے بیٹھی ہو اور آپکو اسکی تشریف کا بھرپور نظارہ ملا ہو. یہ بھی بتاو کہ کس کس عورت کو ایسے دیکھ چکے ہو؟ اور اسکی ننگی موٹی بنڈ کو دیکھ کر پہلا کیا خیال آیا تھا؟ آج کل یہ رواج ختم ہو چکا ہے۔ گاؤں کے لوگ بھی اب سیانے ہو گئے ہیں اور انہوں نے گھروں میں باتھ روم بنا لئے ہیں۔ اب خواتین باہر جا کر پیشاب نہیں کرتیں۔ اب بھی ایسے دیہات ہیں جہاں لوگ گھر میں باتھروم نہیں بناتے باتھروم بھی کونسے محفوظ ہوتے ہیں، کچھ لوگ اندر جھانکنے کے لیے کوئی سوراخ ڈھونڈ لیتے ہیں اور انسان غلطیوں کا پتلا ہے، کبھی اندر جانے والی دروازہ لاک کرنا بھول جاتی ہے اور عین جب پوری بنڈ ننگی کر کے بیٹھتی ہے کوئی گھر کا ہی فرد اندر آ دھمکتا ہے اور ننگی بنڈ کا دیدار کر لیتا ہے، جب تک وہ سنبھلتی تب تک ایک جھلک تو دکھای دے جاتی ہے. اس دور میں عورت کو ننگی دیکھنا اور بھی آسان ہوچکا ہے، وہی گاؤں کی عورتیں آج اپنے بیرون ملک کام کرنے والے شوہروں کو ننگی تصویریں اور ویڈیو بنا کر بھیجتی ہیں . کل تک خالی کوئی باہر فصلوں میں پیشاب کرتے ننگے کولہے دیکھ لیتا تھا مگر اب وہ سمارٹ فون کے ذریعے ایک ایک سوراخ کھول کر دکھاتی ہیں، جو وہ اپنے میاں کو بھیجتی ہیں مگر نجانے کیسے یہ ویڈیو لیک ہوجاتی ہیں اور میاں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے لوگ بھی مزہ اور سرور حاصل کرتے ہیں
0:00 / 0:00
← Return to Studio