“قوم نیوز پہلے بھی ایک پولیس افسر کے خلاف اسی طرح الزامات، سنسنی اور کردار کشی پر مبن

“قوم نیوز پہلے بھی ایک پولیس افسر کے خلاف اسی طرح الزامات، سنسنی اور کردار کشی پر مبنی خبریں چلا چکا ہے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ افسر بے گناہ تھا، مکمل انکوائری کے بعد بحال ہوا، اور تمام دعوے جھوٹے نکلے۔ اب سوال یہ ہے کہ اُس وقت قوم نیوز نے اپنی جھوٹی خبر پر قوم سے معافی کیوں نہیں مانگی؟ ایک بے گناہ انسان کی عزت، اس کے خاندان کی اذیت اور اس کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا حساب کون دے گا؟ آج پھر وہی پرانا کھیل دہرایا جا رہا ہے۔ پھر بغیر عدالتی فیصلے کے الزامات، پھر یکطرفہ کہانی، پھر میڈیا ٹرائل۔ کیا قوم نیوز کے پاس واقعی ناقابلِ تردید ثبوت ہیں، یا صرف ایک بار پھر کسی کے اشارے پر کردار کشی کی جا رہی ہے؟ اگر پہلی خبر جھوٹ ثابت ہو چکی تھی تو اب عوام کیوں اس نئی کہانی پر یقین کریں؟ کیا یہ صحافت ہے یا لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے کا کاروبار؟ بار بار جھوٹی اور متنازع خبریں چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد سچ سامنے لانا نہیں بلکہ سنسنی، بدنامی اور مخصوص مفادات کی خدمت کرنا ہے۔ قوم نیوز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ میڈیا کی طاقت کسی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ ایک ذمہ دار صحافتی ادارہ ثبوت، توازن اور دیانتداری سے کام لیتا ہے، نہ کہ الزام تراشی اور کردار کشی سے۔ آج عوام سوال پوچھ رہے ہیں: اگر کل پھر یہی الزامات جھوٹے ثابت ہو گئے تو کیا قوم نیوز اتنی ہی بڑی سرخی میں اپنی غلطی تسلیم کرے گا؟ یا ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کر کے اگلے شکار کی تلاش شروع کر دے گا؟ سچ وقت کے ساتھ سامنے آتا ہے، مگر جھوٹ بولنے والوں کی ساکھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتی ہے۔”
0:00 / 0:00
Share
← Return to Studio