کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ… ایک چھوٹا سا پرندہ… دن میں ہزاروں بار… اپنی چونچ کو درخت کی سخت چھال پر… بے رحمی سے مارتا ہے… پھر بھی… اس کی کھوپڑی ٹوٹ کر بکھرتی کیوں نہیں؟… اس کا دماغ شدید زخمی کیوں نہیں ہوتا؟ اگر کوئی انسان… ایسی زور دار ٹکریں لگائے… تو اس کا دماغ… بری طرح زخمی ہو جائے گا۔ مگر… کٹھ پھوڑا… صدیوں سے… یہ کام… بغیر کسی نقصان کے… کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس راز کو سمجھنے کے لیے… سائنسدان… ڈیڑھ سو سال سے… تحقیق کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے… تیس دسمبر… اٹھارہ سو پچھتر میں… انگریز سائنسدان… ولیم کچن پارکر نے… کٹھ پھوڑے کی کھوپڑی کا… پہلا سائنسی مطالعہ کیا۔ یہ تحقیق… لندن کی لائنین سوسائٹی کے رسالے میں شائع ہوئی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں… والٹر بوک نے کہا… کہ جھٹکا… سیدھا دماغ پر نہیں پڑتا… بلکہ نیچے کی طرف… چلا جاتا ہے۔ یہ تحقیق… جرنل آف مورفولوجی رسالے میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن… سب سے زیادہ مشہور بات… اٹھائیس فروری… انیس سو چھہتر میں… فلپ مے نے بتائی۔ انہوں نے کہا… کہ کٹھ پھوڑے کی کھوپڑی میں… نرم سپنج جیسی ہڈی ہوتی ہے… جو جھٹکے کو روک لیتی ہے… دماغ بالکل ٹائٹ بیٹھا ہوتا ہے… اور زبان کی ہڈی… سر کے گرد… سیٹ بیلٹ کی طرح لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ تحقیق… لینسیٹ رسالے میں شائع ہوئی تھی۔ یہ بات… پچاس سال تک… دنیا بھر میں… مان لی گئی۔
0:00 / 0:00