خالد بڑے فخر اور جوش کے ساتھ چائے کی چھوٹی سی دکان میں داخل ہوا۔ احمد آرام سے کرسی پر

خالد بڑے فخر اور جوش کے ساتھ چائے کی چھوٹی سی دکان میں داخل ہوا۔ احمد آرام سے کرسی پر بیٹھے بیٹھے گہری نیند سو رہا تھا۔ منی خاموشی اور توجہ کے ساتھ اپنا ہوم ورک مکمل کر رہی تھی۔ خالد نے اچانک بہت زور سے خوشی میں چلانا شروع کر دیا۔ "آج ہم سب بہت جلد امیر بن جائیں گے!" احمد نے آہستہ آہستہ اپنی ایک آنکھ کھولی اور سستی سے خالد کو دیکھا۔ "کیا امیر بننے کے بعد بھی میں سکون سے سو سکتا ہوں؟" منی یہ بات سن کر زور زور سے ہنسنے لگی۔ خالد نے بڑے ڈرامائی اور پُرجوش انداز میں ایک کاغذ سب کے سامنے لہرا کر دکھایا۔ "ہم اب مصالحے دار اور خاص فرائز آن لائن فروخت کریں گے!" احمد یہ عجیب منصوبہ سن کر کافی حیران اور پریشان نظر آنے لگا۔ "آخر آن لائن فرائز خریدنے والے لوگ ہوتے بھی ہیں؟" خالد نے اعتماد اور فخر سے بھری ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ "صرف سمجھدار اور ہوشیار لوگ ہی ایسی چیزیں خریدتے ہیں۔" صرف ایک گھنٹے کے اندر پورا کچن دھوئیں اور تیز خوشبو سے بھر گیا۔ منی زور زور سے کھانسنے لگی اور اپنی ناک ڈھانپ لی۔ احمد نے غور سے جلے ہوئے اور کالے پڑے فرائز کی طرف دیکھا۔ "یہ فرائز تو کافی خطرناک اور ڈراؤنے لگ رہے ہیں۔" خالد نے ہمت دکھاتے ہوئے بہادری سے ایک فرائز فوراً کھا لیا۔ چند ہی لمحوں میں اس کی آنکھوں سے تیزی سے پانی نکلنا شروع ہو گیا۔ اچانک اسی دوران عبداللہ بھی دکان کے اندر آ پہنچا۔ اس نے احتیاط اور تجسس کے ساتھ ایک فرائز اٹھا کر چکھا۔ سب لوگ بےچینی اور گھبراہٹ کے ساتھ اس کے ردِعمل کا انتظار کرنے لگے۔ عبداللہ نے چند لمحوں بعد اچانک مسکرا کر سب کی طرف دیکھا۔ "یہ ذرا عجیب اور خطرناک ہیں… لیکن واقعی بہت مزیدار بھی ہیں!"
0:00 / 0:00
← Return to Studio