مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، یہ کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ سیا

مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، یہ کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ سیاسی اختلاف ہر دور میں رہے ہیں اور رہیں گے، مگر اختلاف کا یہ مطلب کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ کے گھروں کو خاموش کر دیا جائے۔ جب مسجد کے دروازے بند ہوتے ہیں تو صرف ایک عمارت بند نہیں ہوتی، بلکہ اس سے جڑے ہزاروں دل اداس ہو جاتے ہیں۔ وہ بزرگ جو ہر نماز میں پہلی صف میں نظر آتے تھے، وہ بچے جو اذان کی آواز سن کر مسجد کی طرف دوڑتے تھے، وہ لوگ جو اپنے غم مسجد میں آ کر بھول جاتے تھے… سب کے دل ٹوٹ جاتے ہیں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو اسے بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے، مگر مسجدوں کو بند کرنا یا ان کی آواز کو روکنا لوگوں کے جذبات کو زخمی کرتا ہے۔ کیونکہ مسلمان اپنے گھروں سے زیادہ محبت اللہ کے گھروں سے کرتے ہیں۔ ایک غریب انسان بھی جب مسجد میں داخل ہوتا ہے تو اسے سکون ملتا ہے، اسے لگتا ہے کہ دنیا میں ابھی خیر باقی ہے تاریخ گواہ ہے کہ مشکل وقت آئے حالات بدلے، حکومتیں بدل گئیں، مگر مسجدوں کی اذان کبھی خاموش نہیں ہوئی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کا نام ہمیشہ بلند رہے گا۔ لوگ پابندیاں لگا سکتے ہیں، دروازے بند کر سکتے ہیں، مگر دلوں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت نہیں نکال سکتے آج بھی جب کوئی مسجد خاموش ہوتی ہے تو لاکھوں دلوں میں درد اٹھتا ہے لوگ صرف یہ سوچتے ہیں کہ آخر مسجد نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ کیونکہ مسجد تو وہ جگہ ہے جہاں انسان سکون لینے آتا ہے، جہاں نفرت نہیں بلکہ محبت سکھائی جاتی ہے، جہاں ٹوٹے ہوئے دل جڑتے ہیں۔ مسجدوں کو خاموش کرنے سے بہتر ہے کہ دلوں کو جوڑا جائے، لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں، اور اختلاف کو نفرت بننے سے روکا جائے۔ کیونکہ مسجدیں رہیں گی، اذان رہے گی، اور اللہ کا نام ہمیشہ بلند رہے گا۔
0:00 / 0:00
Share
← Return to Studio