AlgiebaUse these settings →
یک گاؤں میں احمد نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ سارا دن اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا رہتا تھا۔ احمد بہت ضدی تھا اور اکثر اپنی امی کی بات نہیں مانتا تھا۔ ایک دن احمد کھیلنے جانے کی ضد کرنے لگا۔ اس کی امی نے کہا: “اچھا بیٹا، کھیلنے جاؤ لیکن زیادہ دور مت جانا۔” احمد نے ہاں کہا، مگر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بہت دور چلا گیا۔ اس کا ایک دوست اسے جنگل کی طرف لے گیا اور پھر خود کہیں چلا گیا۔ احمد کچھ دیر کھیلتا رہا، لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ وہ راستہ بھول گیا ہے۔ اچانک آسمان پر کالے بادل آگئے اور تیز ہوا چلنے لگی۔ احمد بہت ڈر گیا اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ ادھر احمد کی امی بہت پریشان ہوگئیں۔ وہ بار بار دروازے کے باہر آکر احمد کو دیکھنے لگیں۔ انہوں نے سوچا: “میرا بیٹا ابھی تک گھر کیوں نہیں آیا؟” احمد کی امی دعا کرنے لگیں اور رونے لگیں۔ گھر کا ماحول غمگین ہوگیا۔ کچھ دیر بعد ایک بزرگ آدمی وہاں آئے جہاں احمد بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے پیار سے پوچھا: “بیٹا، تم یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟” احمد نے ساری بات بتا دی۔ بزرگ نے نرمی سے کہا: “جو بچے اپنے امی ابو کی بات نہیں مانتے، وہ اکثر مشکل اور نقصان میں پڑ جاتے ہیں۔ والدین ہمیشہ اپنے بچوں کی بھلائی چاہتے ہیں۔” احمد کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ وہ بزرگ احمد کو اس کے گھر لے گئے۔ احمد کی امی اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ احمد نے فوراً اپنی امی سے معافی مانگی اور کہا: “امی، اب میں ہمیشہ آپ کی بات مانوں گا۔” اس دن کے بعد احمد ایک فرمانبردار اور اچھا بچہ بن گیا۔ سبق ہمیں ہمیشہ اپنے والدین کی بات ماننی چاہیے کیونکہ وہ ہماری بھلائی چاہتے ہیں۔
0:00 / 0:00