SadachbiaUse these settings →
پہلی بات: سب سے پہلے کلمہ طیبہ کو سمجھنا اور اسے دل سے قبول کرنا ضروری ہے، خواہ مرد ہو یا عورت۔ یہ ایمان کا پہلا اور اہم ترین رکن ہے اور ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے۔ کلمہ محض زبان سے پڑھنا کافی نہیں بلکہ اسے روح میں اتارنا (سر کرنا) اصل مقصد ہے۔ دوسری بات: بیعت کرنا ہر مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے۔ بیعت دراصل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ایک عہد ہے تاکہ ان کے بتائے ہوئے راستوں پر عمل کیا جا سکے۔ تیسری بات: اس راہ میں کسی مرشدِ کامل اور رہبر کا ہونا ضروری ہے جو متقی اور پرہیزگار ہو۔ ایسا مرشد جو انسان کو کلمے کی حقیقت اور "دل کے کلمے" سے آشنا کرے اور اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لے جائے۔ چوتھی بات: نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا (امر بالمعروف و نہی عن المنکر)۔ یہ حکمِ خداوندی ہے اور تمام مرد و خواتین پر فرضِ عین ہے۔ پانچویں بات: عبادت و ریاضت، کثرت سے ذکر و اذکار اور دعا مانگنا ہر انسان کے لیے ضروری اور فرضِ عین ہے۔ چھٹی بات: ہر مرد اور عورت کو متقی اور پرہیزگار ہونا چاہیے۔ یہ انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت اور فرضِ عین ہے۔ ساتویں بات: تزکیۂ نفس، یعنی اپنے وجود اور روح کو پاک کرنا۔ تقویٰ اور تزکیہ حاصل کرنا ہر انسان کے لیے لازم ہے۔ آٹھویں بات: ہر انسان (مرد ہو یا عورت) میں حسنِ اخلاق کا ہونا لازمی ہے، یہ دین کا اہم جزو ہے۔ نویں بات: سخاوت ایک لازمی صفت ہے۔ ہر انسان کو سخی ہونا چاہیے کیونکہ سخاوت انسان کے لیے آخرت کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ دسویں بات: اللہ کی رضا کے لیے دینِ اسلام کی خاطر قربانی دینا، دین پھیلانا اور ایک دوسرے کو نیک مشورے اور نصیحت کرنا۔
0:00 / 0:00