ایک دن ایک غریب لڑکی سمندر کے کنارے لکڑیاں کاٹ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی کلہاڑی تھی، جو اس کی روزی کا واحد سہارا تھی۔ اچانک اس کا پاؤں پھسلا، اور کلہاڑی اس کے ہاتھ سے نکل کر گہرے سمندر میں جا گری۔ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولی، "اے خدا! اب میرا کیا بنے گا؟" اتنے میں سمندر کی لہروں سے ایک روشن چہرے والی پری نمودار ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں سونے کی چمکتی ہوئی کلہاڑی تھی۔ پری نے مسکرا کر پوچھا، "بیٹی، کیا یہ تمہاری کلہاڑی ہے؟" لڑکی نے غور سے دیکھا اور آہستہ سے بولی، "نہیں، یہ میری نہیں ہے۔" پری دوبارہ پانی میں گئی اور اس بار چاندی کی کلہاڑی لے آئی۔ اس نے پھر پوچھا، "کیا یہ تمہاری ہے؟" لڑکی نے سر ہلا کر کہا، "نہیں، یہ بھی میری نہیں۔" تیسری بار پری ایک پرانی لوہے کی کلہاڑی لے کر آئی۔ کلہاڑی دیکھتے ہی لڑکی کے چہرے پر خوشی آ گئی۔ وہ بولی، "جی ہاں! یہی میری کلہاڑی ہے۔" لڑکی کی سچائی نے پری کا دل خوش کر دیا۔ پری نے کہا، "جو سچ بولتا ہے، وہ انعام کا حق دار ہوتا ہے۔" اور پھر اس نے سونے، چاندی اور لوہے، تینوں کلہاڑیاں لڑکی کو دے دیں۔ یاد رکھیں...
0:00 / 0:00