AchirdUse these settings →
السلام علیکم! آج میں ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں… وہ مسئلہ جسے بعض لوگ صرف “انتظامی فیصلہ” سمجھ رہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے تعلیمی نظام، معاشرتی توازن اور آئینی اصولوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ میں بات کر رہا ہوں سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سے تعلیم بہتر ہوگی، اخراجات کم ہوں گے، اور نظام میں بہتری آئے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوگا؟ یا ہم ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جہاں غریب کا بچہ تعلیم سے مزید دور ہو جائے گا؟ سب سے پہلی بات… آؤٹ سورسنگ طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گی۔ ایک طرف وہ بچے ہوں گے جو مہنگے نجی اداروں میں پڑھ سکیں گے، اور دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کے بچے ہوں گے جن کے لیے معیاری تعلیم صرف ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔ تعلیم اگر برابر نہ رہے تو معاشرہ بھی برابر نہیں رہتا۔ دوسری بات… یہ قدم سمندر کی اس بے رحم لہر کی طرح ہے جو کمزور طبقے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ دیہی علاقوں، پسماندہ بستیوں اور کم وسائل والے خاندانوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ تیسری اہم بات… یہ پالیسی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-A کی روح کے بھی خلاف محسوس ہوتی ہے۔ آئین ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم کا حق دیتا ہے۔ اگر تعلیم کاروبار بن جائے تو پھر غریب آدمی کے بچے کا یہ حق کہاں محفوظ رہے گا؟ آؤٹ سورسنگ سے مقامی سطح پر بھی بے چینی بڑھے گی۔ لوگوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوگا، اعتماد کمزور ہوگا، اور ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔ پھر ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ تعلیم ایک خدمت کے بجائے منافع کا ذریعہ بن جائے گی۔ جب مقصد نفع ہو تو پھر کردار سازی، تربیت، اخلاق اور قومی شعور پیچھے رہ جاتے ہیں۔
0:00 / 0:00