CHAPTER 1 صبح کا وقت تھا، اور سورج کی روشنی آہستہ آہستہ زمین پر پھیل رہی تھی۔ ہوا میں

CHAPTER 1 صبح کا وقت تھا، اور سورج کی روشنی آہستہ آہستہ زمین پر پھیل رہی تھی۔ ہوا میں ایک نیا سا احساس تھا، جیسے آج صرف ایک دن نہیں بلکہ کسی بڑی کہانی کا آغاز ہو رہا ہو۔ ِ نور حیات یونیورسٹی کے بڑے بڑے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ اندر اور باہر طلبہ کی بھیڑ تھی۔ ہر چہرے پر ایک الگ احساس تھا — کوئی خوشی سے بھرا ہوا تھا، کوئی گھبراہٹ میں، اور کوئی ایسا جیسے وہ خود بھی نہیں جانتا کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے۔ یہ جگہ صرف یونیورسٹی نہیں تھی... یہ ایک دنیا تھی۔ اور اس دنیا میں ہر کسی کی اپنی ایک کہانی تھی۔ اسی ہجوم میں ایک سیاہ گاڑی آہستہ سے آ کر رکی۔ گاڑی کے رکنے کے ساتھ ہی اردگرد کا شور جیسے تھوڑا سا کم ہو گیا ہو۔ دروازہ کھال... اور ایک لڑکی باہر نکلی۔ وہ تھی ازل شاہ۔ ازل نے پہلے زمین کو دیکھا، پھر آہستہ سے یونیورسٹی کی بڑی عمارت کی طرف نظر اٹھائی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ یہ اس کی زندگی کا پہال دن تھا یہاں۔ وہ تھوڑی گھبرائی ہوئی تھی، تھوڑی کھوئی ہوئی... اور تھوڑی سی ُپرجوش بھی۔ :اس نے آہستہ سے خود سے کہا “یہ جگہ واقعی بہت بڑی ہے...” اس کی آواز نرم تھی، جیسے وہ خود سے بات کر رہی ہو۔ اس کے ساتھ اس کی کزن تھی، جو کافی پرسکون انداز میں چل رہی تھی۔ :کزن نے مسکرا کر کہا “�� ازل، تم ایسے لگ رہی ہو جیسے کسی اور سیارے پر آ گئی ہو” ازل نے فورا اس کی طرف دیکھا۔ ً “میں پہلے ہی گھبرائی ہوئی ہوں، تم اور مت ڈراؤ مجھے۔” کزن نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “پرسکون ہو جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پہلے دن سب کو ایسا ہی لگتا ہے۔” لیکن ازل کا دل پھر بھی بے چین تھا۔
0:00 / 0:00
← Return to Studio