ایک مصروف بازار میں ایک چھوٹا سا چاندی کا سکہ رہتا تھا جس کا نام کوکو تھا۔ وہ کئی ہاتھوں سے گزر چکا تھا، دکانداروں، بچوں اور مسافروں کے ہاتھوں سے۔ کوکو اکثر خود پر فخر کرتا تھا۔ “میں بہت اہم ہوں،” وہ کہتا۔ “میرے بغیر کوئی چیز خریدی نہیں جا سکتی۔” وقت گزرنے کے ساتھ کوکو لاپرواہ ہو گیا۔ اسے جلدی جلدی استعمال ہونا پسند تھا اور کبھی کبھی وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔ ایک دن ایک چھوٹی لڑکی نے روٹی خریدتے ہوئے اسے زمین پر گرا دیا۔ کوکو لڑھکتا ہوا ایک لکڑی کی گاڑی کے نیچے جا کر کیچڑ میں پھنس گیا۔ دن گزرتے گئے، مگر کسی نے اسے نہ دیکھا۔ “شاید میں ہمیشہ کے لیے کھو گیا ہوں،” کوکو نے اداسی سے کہا۔ ایک صبح ایک غریب لڑکے نے سڑک صاف کرتے ہوئے اسے ڈھونڈ لیا۔ لڑکے کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ “اس سے میری ماں کھانا خرید سکے گی،” اس نے خوشی سے کہا۔ یہ سن کر کوکو کے دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ پہلی بار اسے سمجھ آیا کہ اس کی اصل قیمت چمکنے یا اہم ہونے میں نہیں، بلکہ دوسروں کی مدد کرنے میں ہے۔ لڑکے نے احتیاط سے کوکو کو استعمال کیا اور اپنے گھر والوں کے لیے راشن خریدا۔ اپنے خاندان کے خوش چہرے دیکھ کر کوکو کو پہلی بار حقیقی خوشی محسوس ہوئی۔ اس دن کے بعد کوکو صرف ایک ہی دعا کرتا تھا… کہ وہ ہمیشہ ایماندار اور مہربان ہاتھوں تک پہنچے۔ اصل قیمت ہماری شکل میں نہیں، بلکہ دوسروں کی مدد کرنے میں ہوتی ہے۔
0:00 / 0:00