سفر کا آغاز آنکھ کھلنے پر ہوتا ہے اور تب تک جاری رہتا ہے جب تک آنکھ کھلی رہتی ہے۔ مسا

سفر کا آغاز آنکھ کھلنے پر ہوتا ہے اور تب تک جاری رہتا ہے جب تک آنکھ کھلی رہتی ہے۔ مسافرت کسی نہ کسی رنگ میں اپنے فطری تسلسل کے ساتھ زندگی کو گھن کی طرح چاٹتی جاتی بدن شکست خوردہ ہوتا جاتا ہے۔ ہر شخص مسافر، ہر زندگی مسافرت اور تمام تر اعمال زاد سفر ہیں۔ میں نے ایک دور افتادہ بستی نور پور میں آنکھ کھولی۔ میرا نام شہر یار ہے۔ میری داستان معاشرے کی انصافیوں سے آلود فضا میں سانسیں لیتےہو ے ان گنت لوگوں سے ہٹ کر نہیں بلکہ ملتی جلتی ہے۔ فرق شاید یہی ہے کہ ان کی کہانیاں صفحہ قرطاس پر نہیں آسکیں جبکہ میں نے اپنے واقعات کو لفظوں کا پیراہن دے کر ہر نظر احساس کاش شکار کر دیا ہے۔ خوف ہمدردی اور پسپائی یہ سب بہت پہلے کی باتیں ہیں، جب میں ایک بے ضرر انسان تھا اور میری خواہشیں اس نہج تک نہیں پہنچی تھیں کہ میں اپنے اور بیگانے کی پہچان بھول جاتا انسا نیت کے لبادے سے نکل کر پتھر کی صورت ڈھل جانے میں صدیاں نہیں لگتیں ، یہ تو پل دو پل کی متحر ک بساط ہے۔ میں بھی ایسے ہی کسی لمحے کی لپیٹ میں آیا تھا اور بے دھیانی میں اں قدر دور نکل گیا کہ میرا اپنا سایہ مجھ سے گریزاں دکھائی دینے لگا تھا۔ سوچتا ہوں کہ اچھا ہوتا اگر میری زندگی بھی ان ہزاروں اشخاص کے جیسی ہوتی جو اس کا ینات میں آتے ہیں اور بغیر کچھ کیسے واپس چلے جاتے ہیں۔ معدودے چند لوگ انہیں جانتے ہیں اور مابعد اُن کا تذکرہ اچھے یا برے لفظوں میں کرتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان پر شا کی یا مطمئن لوگوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ میرے ماں باپ کھیتوں سے رزق اُگاتے ، مزدوری کرتے ایک رات مجھے اور پروین کو دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر مدتوں قبل رخصت ہو گئے تھے۔ میرا باپ امام دین بڑا وجیہہ اور وضع دار انسان تھا۔
0:00 / 0:00
← Return to Studio