کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ کئی حادثات صرف خراب موسم کی وجہ سے ہوئے۔ لیکن پھر بھی… کئی واقعات ایسے ہیں جن کی وضاحت موسم سے نہیں ہوتی۔ وقت میں گم ہونے کی کہانیاں کچھ پائلٹس نے عجیب تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ برمودا ٹرائینگل سے گزرتے ہوئے ان کی گھڑیاں غلط وقت دکھانے لگیں۔ کچھ نے بتایا کہ وہ اچانک ایک سفید دھند میں داخل ہوئے۔ اور جب باہر نکلے تو وہ سیکڑوں میل دور پہنچ چکے تھے۔ ایک پائلٹ نے دعویٰ کیا: “ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ہو…” یہ کہانیاں لوگوں کے خوف کو مزید بڑھاتی گئیں۔ خاموش سمندر برمودا ٹرائینگل کے بارے میں ایک عجیب بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ کبھی کبھی وہاں سمندر غیر معمولی طور پر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ ہوا کی آواز… نہ لہروں کا شور… صرف خاموشی۔ کئی ملاحوں نے کہا کہ اس خاموشی میں عجیب خوف محسوس ہوتا ہے۔ جیسے کوئی انہیں دیکھ رہا ہو۔ جدید ٹیکنالوجی بھی ناکام؟ آج انسان کے پاس satellites، GPS، sonar اور جدید radar systems موجود ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ برمودا ٹرائینگل کا خوف اب بھی ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ آج وہاں روزانہ جہاز اور طیارے گزرتے ہیں، مگر کبھی کبھی اب بھی عجیب خبریں سامنے آ جاتی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ سب صرف اتفاق ہے۔ اور کچھ کہتے ہیں… “وہاں واقعی کچھ ہے…” حقیقت یا افسانہ؟ کئی سائنسدان کہتے ہیں کہ برمودا ٹرائینگل کو میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ان کے مطابق دنیا کے دوسرے سمندروں میں بھی اتنے ہی حادثات ہوتے ہیں۔ لیکن فرق صرف یہ ہے کہ برمودا ٹرائینگل کی کہانیاں زیادہ مشہور ہو گئیں۔ یہ بات کسی حد تک درست لگتی ہے۔ مگر پھر سوال باقی رہتا ہے… اتنے سارے عجیب واقعات ایک ہی علاقے میں کیوں ہوئے؟ ایک صحافی کی تحقیق ایک مشہور صحافی نے فیصلہ
0:00 / 0:00