CharonUse these settings →
کیا آپ ایک ایسے ملک میں رہنا چاہیں گے جہاں حکومت آپ سے ایک روپیہ بھی ٹیکس نہیں لیتی؟ آپکو ہمارے چینل پر خوش آمدید تو ویورز۔ اس دیش کا نام ہ موناكو۔ یہ فرانس کے بالکل کنارے پر بسا ہوا ہے، لیکن یہ فرانس کا حصہ نہیں، بلکہ ایک آزاد ریاست ہا۔ موناكو ایک مکمل ملک ہے، اور یہ دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہ اتنا چھوٹا ہے کے اسکا کل ایریا صرف 2 اسکوائر کلومیٹرز کے قریب ہے۔ آپ پورا ملک ایک گھنٹے میں پیدل گھوم سکتے ہیں۔ موناكو کو "بلینیئرز' پلے گراؤنڈ" کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں دنیا کے سب سے زیادہ امیر لوگ رہتے ہیں اور وہاں کوئی انکم ٹیکس نہیں ہوتا اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہ کے اگر لوگ ٹیکس نہی دیتے تو حکومت کے پاس پیسہ کھن سے آتا ہے؟ حکومت کا نظام چلانے کے لیے صرف انکم ٹیکس ہی واحد ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ مختلف "انڈائریکٹ ٹیکسز" اور دیگر ذرائع سے اپنا خزانہ بھرتی ہے۔ جب آپ پیٹرول دلواتے ہیں، موبائل کا لوڈ کراتے ہیں یا دکان سے کوئی بھی پیکڈ چیز خریدتے ہیں، تو اسکی قیمت میں پہلے سے ہی سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی شامل ہوتی ہے جو سیدھا حکومت کے پاس جاتی ہے۔ اسکے علاوہ، باہر سے آنے والی چیزوں پر بھاری امپورٹ ڈیوٹیز، سرکاری دفتروں کی فیس (جیسے پاسپورٹ یا لائسنس)، اور ٹول پلازاس سے جمع ہونے والا پیسہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ان سب سے بھی خرچہ پورا نہ ہو، تو حکومت ملکی اور غیرملکی بینکس سے قرضے لیتی ہے یا پھر اسٹیٹ بینک کے ذریعے نئے نوٹ چھپوا کر ضرورت پوری کرتی ہے
0:00 / 0:00