نیلم پری کی ماں اکثر اسے محبت بھرے مگر فکر مند لہجے میں سمجھاتی تھی۔ "نیلم بیٹی! انسانی دنیا بہت خطرناک ہے۔ اگر کسی کو تمہارا راز معلوم ہو گیا تو بہت بڑی مصیبت آ سکتی ہے۔" اس کے والد بھی سنجیدگی سے کہتے، "سمندر کے قانون کے مطابق جل پریوں کو انسانوں سے دور رہنا چاہیے۔ دونوں دنیاؤں کے درمیان ایک حد ہے، اور اس حد کو پار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔" مگر نیلم پری ہمیشہ ہنس دیتی اور اعتماد سے جواب دیتی، "ماں بابا! آپ دونوں بلاوجہ پریشان ہوتے ہیں۔ میں بھیس بدل کر جاتی ہوں، کسی کو کچھ پتہ نہیں چلتا۔" اور پھر ہر صبح، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ، وہ خاموشی سے ساحل پر آتی، انسانی روپ اختیار کرتی اور نئی نئی جگہوں کی سیر پر نکل جاتی۔ کبھی وہ بازار میں پھول بیچنے والی ایک معصوم لڑکی بن جاتی۔ کبھی بچوں کے ساتھ کھیلتی، ان کے ساتھ ہنستی اور ان کی خوشیوں میں شریک ہو جاتی۔ کبھی کسی ہوٹل میں جا کر لوگوں کے ساتھ بیٹھتی، ان کی باتیں سنتی اور انسانی دنیا کے رنگوں کو قریب سے محسوس کرتی۔ اور کبھی جنگلوں میں گھومتی پھرتی، پرندوں کی آوازیں سنتی اور جانوروں سے باتیں کرتی۔
0:00 / 0:00