Free Urdu Text to Speech

باڈی گارڈز کے گھوڑا سوار اپنے کرتب دکھائیں گے ۔ شمشیر زنی اور بغیر ہتھیاروں کی لڑائی کے مق

2026-04-08

باڈی گارڈز کے گھوڑا سوار اپنے کرتب دکھائیں گے ۔ شمشیر زنی اور بغیر ہتھیاروں کی لڑائی کے مقابلے ہوں گے اور صلاح الدین ایوبی کو رات وہیں قیام کرایا جائے گا۔ رہائش کے لیے خیمے نصب ہوں گے ... صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رہا۔ اس نے ناچ گانے پر بھی اعتراض نہ کیا۔ ناجی نے ڈرتے ججھکتے کہا۔ " فوج کے بیشتر سپاہی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ہیں کبھی کبھی شراب پیتے ہیں ۔ وہ شراب کے عادی نہیں ۔ وہ اجازت چاہتے ہیں کہ جشن میں انہیں شراب پینے کی اجازت دی جائے ۔ "آپ اُن کے کمانڈر ہیں " صلاح الدین ایوبی نے کہا " آپ چاہیں تو انہیں اجازت دے دیں ۔ نہ دینا چاہیں تو میں آپ پر اپنا حکم نہیں چلاؤں گا " "امیر مصر کا اقبال بلند ہو " ناجی نے غلاموں کی طرح کہا میں کون ہوتا ہوں اس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سخت نا پسند کرتے ہیں ۔ "انہیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ہنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی نے کہا " اگر شراب پی کر کسی نے ہالا گلا کیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی : یہ خبر جب صلاح الدین ایوبی کے سٹاف تک پہنچی کہ ناجی صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جو جشن منعقد کر رہا ہے اس میں ناچ گانا ہوگا اور شراب بھی پی جائے گی اور صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان خرافات کے باوجود قبول کر لی ہے، تو سب حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ہے وہ دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا ہے اور کسی نے یہ رائے دی کہ ناجی کا جادو صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ہے۔ یہ رائے ان سربراہوں کو پسند آئی جو ناجی کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے۔ صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی اُن کے لیے عیش و عشرت ، شراب نوشی اور بد کاری جرم قرار دے دی تھی۔ اس نے ایسا سخت ڈسپلن رانچ کر دیا تھاکہ کسی کو پہلے کی طرح فرائض سے کوتاہی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ وہ اس پر خوش تھے کہ آج نئے امیر مصر نے کسی دعوت میں شراب اور رقص کی اجازت دی ہے تو کل پرسوں وہ خود بھی ان رنگینیوں کا رسیا ہو جائے گا۔ صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ صلاح الدین ایوبی نے خرافات کی اجازت کیوں دی ہے۔ جشن کی شام آگئی ۔ ایک تو چاندنی رات تھی ۔ صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ہوتی ہے کہ ریت کے ذرے بھی نظر آ جاتے ہیں ۔ دوسرے ہزار ہا مشعلوں نے وہاں صحرا کی رات کو دن بنا دیا تھا ۔

ID: 0016d3f8-952e-4cea-bd34-02410c7eff50

Created: 2026-04-08T13:48:31.014Z

More Shares

← Return to Studio