Free Urdu Text to Speech

🎬 Title: ایک بوڑھا باپ اور اس کے دو بیٹے 👴 باپ (آہستہ، کمزور آواز): "بیٹا… آج مجھے اپنے

🎬 Title: ایک بوڑھا باپ اور اس کے دو بیٹے 👴 باپ (آہستہ، کمزور آواز): "بیٹا… آج مجھے اپنے ساتھ لے چلو… میں اکیلا ہو گیا ہوں…" 👨 پہلا بیٹا (سخت، مصروف آواز): "ابو! میرے پاس ٹائم نہیں ہے… آپ وہیں ٹھیک ہیں…" 👨‍🦱 دوسرا بیٹا (نارمل، تھوڑا شرمندہ): "ابو… میں بھی مصروف ہوں… بعد میں دیکھتے ہیں…" 🎙️ Narrator (گہری جذباتی آواز): "دو دن بعد… وہ باپ اسی گھر میں اکیلا مر گیا…" 👦 پوتا (معصوم، روتی ہوئی آواز): "ابو… آپ نے دادا کو کیوں نہیں رکھا…؟" 👨 پہلا بیٹا (پچھتاوا): "میں… میں غلط تھا…" 🎙️ Narrator: "یاد رکھو… جو اپنے ماں باپ کے ساتھ کرتے ہو… وہی تمہارے ساتھ ہوگا…"

ID: ed04a45d-ab7e-4484-a6be-4640cb915df5

Created: 2026-04-08T08:42:36.033Z

More Shares

855c55ef-576f-4a78-9100-843aa10d1b8c

ایک مصروف شہر میں حارث نام کا ایک کامیاب بزنس مین رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت، گاڑی اور بڑا گھر سب کچھ تھا، اور لوگ اس کی کامیابی کی مثال دیتے تھے۔ مگر حارث اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں رکھتا تھا۔ وہ روزانہ فاسٹ فوڈ کھاتا، دیر تک جاگتا اور ورزش کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ وقت گزرتا گیا اور اس کی عادتیں اس کی صحت کو خراب کرنے لگیں۔ ایک دن اچانک وہ شدید کمزوری محسوس کرتے ہوئے گر پڑا اور اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی بیماری کی وجہ اس کا غیر صحت مند طرزِ زندگی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنی عادات نہ بدلیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ سن کر حارث کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ niوہ اپنی زندگی بدل دے گا۔ اس نے صبح جلدی اٹھنا شروع کیا، روزانہ چہل قدمی کرنے لگا، صحت مند غذا کھانے لگا اور وقت پر سونے لگا۔ شروع میں یہ سب مشکل تھا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔

"855c55ef-576f-4a78-9100-843aa10d1b8c"

8f2552b1-593a-4e69-bc1f-3725bdb8b3a0

اُس نے علی سے کہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص صلیبیوں سے زیادہ خطر ناک ہے۔ "یہ ایک سانپ ہے جسے مصر کی امارت آستین میں پال رہی ہے ۔ علی بن سفیان نے ناجی کی تخریب کاری کی تفصیل سنائی کہ اس نے کسی طرح کس کس بڑے آدمی کو اپنے ہاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رہا۔ پھر کہا "اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سالار ہے وہ ہماری بجائے اس کی وفادار ہے۔ کیا آپ اس کا کوئی علاج سوچ سکتے ہیں؟" "صرف سوچ ہی نہیں سکتا" صلاح الدین ایوبی نے جواب دیا۔ "علاج شروع کر چکا ہوں۔ مصر سے جو سپاہ بھارتی کی جارہی ہے، اسے میں سوڈانی محافظوں میں گڈمڈ کر دوں گا۔ پھر یہ فوج سوڈانی ہوگی نہ مصری۔ ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہو جائے گی۔ ناجی کو میں اس کے صحیح ٹھکانے پر لے آؤں گا۔ "اور میں یہ بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس نے صلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔" علی بن سفیان نے کہا "آپ سلطنت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لا کر اسلام کو وسعت دینا چاہتے ہیں، مگر ناجی آپ کے خواب کو دیوانے کا خواب بتا رہا ہے۔ "تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو ؟" "یہ مجھ ہر چھوڑیں" علی بن سفیان نے جواب دیا۔ "میں جو کچھ کروں گا، وہ آپ کو ساتھ ساتھ ہی بتاؤں گا۔ آپ مطمئن رہیں۔ میں نے اس کے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار چن دی ہے جس میں آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں اور یہ دیوار متحرک ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اُسے اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کر لیا ہے۔ صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس سے اس کی در پردہ کارروائی کی تفصیل نہ پوچھی۔ علی نے اس سے پوچھا " معلوم ہوا ہے کہ وہ آپ کو جشن پر مدعو کر رہا ہے ۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس کی دعوت اس وقت قبول کیجئے گا جب میں آپ کو بتاؤں گا "ایوبی اٹھا اور ہاتھ پیٹھ پیچھے رکھ کر ٹہلنے لگا ۔ اُس کی آہ نکل گئی ۔ وہ رک گیا ،اور بولا " بن سفیان ! زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بے مقصد زندگی سے کیا یہ بہتر نہیں کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے ؟ کبھی کبھی یہ سوچ دماغ میں آجاتی ہے کہ وہ لوگ شاید خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مردہ ہوتی ہے اور جن کا کوئی کردار نہیں ہوتا ۔ بڑے مزے سے جیتے اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں ؟ " وہ بد نصیب ہیں امیر محترم ! " علی نے کہا

"8f2552b1-593a-4e69-bc1f-3725bdb8b3a0"

← Return to Studio