اُس نے علی سے کہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص صلیبیوں سے زیادہ خطر ناک ہے۔ "یہ ایک سانپ ہے جسے مصر کی امارت آستین میں پال رہی ہے ۔ علی بن سفیان نے ناجی کی تخریب کاری کی تفصیل سنائی کہ اس نے کسی طرح کس کس بڑے آدمی کو اپنے ہاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رہا۔ پھر کہا "اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سالار ہے وہ ہماری بجائے اس کی وفادار ہے۔ کیا آپ اس کا کوئی علاج سوچ سکتے ہیں؟" "صرف سوچ ہی نہیں سکتا" صلاح الدین ایوبی نے جواب دیا۔ "علاج شروع کر چکا ہوں۔ مصر سے جو سپاہ بھارتی کی جارہی ہے، اسے میں سوڈانی محافظوں میں گڈمڈ کر دوں گا۔ پھر یہ فوج سوڈانی ہوگی نہ مصری۔ ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ہماری فوج میں جذب ہو جائے گی۔ ناجی کو میں اس کے صحیح ٹھکانے پر لے آؤں گا۔ "اور میں یہ بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس نے صلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔" علی بن سفیان نے کہا "آپ سلطنت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لا کر اسلام کو وسعت دینا چاہتے ہیں، مگر ناجی آپ کے خواب کو دیوانے کا خواب بتا رہا ہے۔ "تم اس سلسلے میں کیا کر رہے ہو ؟" "یہ مجھ ہر چھوڑیں" علی بن سفیان نے جواب دیا۔ "میں جو کچھ کروں گا، وہ آپ کو ساتھ ساتھ ہی بتاؤں گا۔ آپ مطمئن رہیں۔ میں نے اس کے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار چن دی ہے جس میں آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں اور یہ دیوار متحرک ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اُسے اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کر لیا ہے۔ صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس سے اس کی در پردہ کارروائی کی تفصیل نہ پوچھی۔ علی نے اس سے پوچھا " معلوم ہوا ہے کہ وہ آپ کو جشن پر مدعو کر رہا ہے ۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس کی دعوت اس وقت قبول کیجئے گا جب میں آپ کو بتاؤں گا "ایوبی اٹھا اور ہاتھ پیٹھ پیچھے رکھ کر ٹہلنے لگا ۔ اُس کی آہ نکل گئی ۔ وہ رک گیا ،اور بولا " بن سفیان ! زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بے مقصد زندگی سے کیا یہ بہتر نہیں کہ انسان پیدا ہوتے ہی مر جائے ؟ کبھی کبھی یہ سوچ دماغ میں آجاتی ہے کہ وہ لوگ شاید خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس مردہ ہوتی ہے اور جن کا کوئی کردار نہیں ہوتا ۔ بڑے مزے سے جیتے اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں ؟ " وہ بد نصیب ہیں امیر محترم ! " علی نے کہا
Use these settings →2026-04-04
8f2552b1-593a-4e69-bc1f-3725bdb8b3a0
ID: 3f333cfa-4c0e-4f44-94c4-8099aec106d8
Created: 2026-04-04T12:58:25.645Z