Free English Text to Speech

3c1305ed-72f6-415b-9b00-078dbdd5b51a

اور اس کے ساتھ دف کی تال پر طاؤس و رباب اور شہنائیوں کا مسحور کن نغمہ ابھرا۔ ایوبی نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیا۔ ناجی اور اس کا نائب اس کے دائیں بائیں تھے۔ وہ دونوں جھک گئے اور اسے آگے پہنچنے کی دعوت دی ۔ یہ وہ انداز تھا جسے مغل بادشاہوں نے ہندوستان میں رائج کیا تھا۔ " صلاح الدین ایوبی پھولوں کی پتیاں مسلنے نہیں آیا۔ ایوبی نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جو ان لوگوں نے پہلے کم ہی کبھی کس کے ہونٹوں پر دیکھی تھی۔ " ہم حضور کے راستے میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ہیں۔" ناجی نے کہا۔ " اگر میری راہ میں کچھ بچھانا چاہتے ہو تو وہ ایک ہی چیز ہے جو میرے دل کو بھاتی ہے " صلاح الدین ایوبی نے کہا۔ " آپ حکم دیں" نائب نے کہا۔ وہ کون سی چیز ہے جو حضور کے دل کو بھاتی ہے؟ " صلیبیوں کی لاشیں" صلاح الدین ایوبی نے مسکرا کر کہا۔ مگر فوراً ہی اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں قہر اور عتاب چھپا ہوا تھا، کہا۔ " مسلمان کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں۔ جانتے نہیں ہو صلیبی سلطنت اسلامیہ کو چوہوں کی طرح کھا رہے ہیں؟ اور جانتے ہو کہ وہ کیوں کامیاب ہو رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ ہم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کر دیا ہے ۔ ہم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کے ان کی عصمتیں روند ڈالی ہیں۔ میری نظریں فلسطین پر لگی ہوئی ہیں ۔ تم میری راہ میں پھول بچھا کر مصر سے بھی اسلام کا پرچم اتروا دینا چاہتے ہو؟ " اس نے سب کو ایک نظر دیکھا اور دبدبے سے کیا" اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے۔ میں نے ان پر قدم رکھا تو میری روح کانٹوں سے چھلنی ہو جائے گی۔ ہٹا دو لڑکیوں کو میرے راستے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تلوار ان کے اتنے دلکش سنہرے بالوں میں الجھ کر بیکار ہو جائے " " حضور کی جاہ و حشمت ....." " مجھے حضور نہ کہو" صلاح الدین ایوبی نے بولنے والے کو یوں روک دیا جیسے تلوار سے کسی کافر کی گردن کاٹ دی ہو۔ اس نے کہا۔ " حضور وہ تھے جن کا تم کلمہ پڑھتے ہو اور جن کا میں غلام بے دام ہوں۔ میری جان فدا ہو اس حضور صل اللہ علیہ وآلہ والسلم پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ہے۔ میں یہی پیغام لے کے مصر میں آیا ہوں۔"

Use these settings →

2026-04-02

3c1305ed-72f6-415b-9b00-078dbdd5b51a

ID: e5e06714-eed4-41a5-9f36-aeba9772cba9

Created: 2026-04-02T02:34:58.384Z

More Shares

← Return to Studio