Free English Text to Speech

9132a658-7463-4c9f-83ea-0880ede448a9

السلام علیکم ویلکم بیک میں ہوں عبدالرحمن ۔ اور آپ دیکھ رہے ہیں این این آئی ڈیجیٹل پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں ،تجزیوں اور تبصروں کےلئے دیکھتے رہیں "نیوز نیٹ ورک انٹرنیشنل" .

Use these settings →

2026-03-15

9132a658-7463-4c9f-83ea-0880ede448a9

ID: bc60fe09-7d71-4f17-98ab-470dd75d3976

Created: 2026-03-15T06:37:48.052Z

More Shares

2340726a-6162-4cb7-bfe3-78c13fd141ab

تصور کریں۔ آپ سمندر کے بیچ میں ہیں۔ آس پاس ہزاروں کلومیٹر تک صرف پانی۔ نیلا پانی۔ گہرا پانی۔ وہ پانی جو آپ کی آنکھیں تو دیکھ سکتی ہیں لیکن دماغ یقین کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ اتنا پانی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کی کشتی الٹ چکی ہے۔ آپ نے آخری بار 119 دن پہلے انسان کو دیکھا تھا۔ 119 دن۔ چار ماہ۔ ایک موسم گرما، ایک خزاں، اور آدھا موسم سرما۔ آپ کا وزن آدھا رہ گیا ہے۔ آپ کی ہڈیاں باہر سے نظر آتی ہیں۔ آپ کی جلد ہڈیوں سے چپک گئی ہے۔ آپ کے بال جھڑ چکے ہیں۔ آپ کے دانت ڈھیلے ہو گئے ہیں۔ آپ کے ساتھی آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ چاروں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر مر جائیں گے۔ یہ نفرت اور ضرورت کا وہ رشتہ ہے جو صرف جہنم میں بنتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ پوری دنیا کو یقین نہیں کہ آپ زندہ ہیں۔ نہ صرف یہ کہ آپ زندہ ہیں، بلکہ لوگوں کو یقین نہیں کہ آپ کبھی زندہ تھے ہی۔ اخبارات آپ کو جھوٹا کہتے ہیں۔ ٹی وی اینکرز آپ پر ہنستے ہیں آپ کا مزاق اڑاتے ہیں اور لوگ آپ کے گھر کے باہر جمع ہو کر پتھر پھینکتے ہیں۔ آپ 119 دن تک سمندر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑی ۔ اور اب آپ کو اپنے سچا ثابت کرنے کے لیے دنیا سے لڑنا ہے۔ یہ ہے 1989 کی وہ کہانی جس نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ چار آدمی۔ ایک کشتی۔ 119 دن۔ اور ایک سچ جو آج تک تنازعہ بنا ہوا ہے۔ یہ کہانی ہے چار دوستوں کی جو ایک خوبصورت جزیرہ دیکھنے کا خواب پورا کرنے نکلے , لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ دنیا نے ان کو زندہ ماننے سے ہی انکار کر دیا

"2340726a-6162-4cb7-bfe3-78c13fd141ab"

← Return to Studio