"میں نے سنا تھا کہ آپ کے پاس لڑکیوں کا ایسا طلسم ہے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ہے۔" ذکوئی نے کہا" کیا وہ طلسم بے کار ہو گیا ہے؟" "میں نے ابھی آزمایا نہیں"۔ ناجی نے کہا۔ "یہ کام تم کر سکتی ہو، میں صلاح الدین ایوبی کی عادتوں کے متعلق تمہیں بہت کچھ بتاؤں گا۔" "کیا آپ اسے زہر دینا چاہتے ہیں؟" ذکوئی نے پوچھا۔ "ابھی نہیں۔" ناجی نے جواب دیا۔ "میری اُس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار کسی تم جیسی لڑکی کے جال میں پھنس جائے، پھر میں اسے اپنے پاس بٹھا کر شراب پلاؤں، اگر اسے قتل کرنا مقصود ہوتا تو میں یہ کام حشیشین سے نہایت آسانی سے کر سکتا تھا۔" ناجی چند لمحے لڑکی کو دیکھتا رہتا۔ وہ اس کی توقع سے زیادہ ذہین تھی۔ "ہاں ذوکوئی ناجی نے اس کے ملائم بالوں پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ میں اس کے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہوں ۔ ایسی دوستی کہ وہ میرا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن جائے ۔ آگے میں جانتا ہوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ہے ناجی نے کہا اور ذرا سوچ کر بولا ۔ لیکن میں تمھیں یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک جادو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ میں بھی ہے۔ اگر تمہارے حسن اور ناز و انداز پر اس کا جادو چل گیا تو میں تمھیں زندہ نہیں رہنے دوں گا، اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکو گی ۔ صلاح الدین ایوبی تمھیں موت سے بچا نہیں سکے گا۔ تمہاری زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے۔ تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکوگی، اس لیے میں نے تمہارے ساتھ کھل کر باتیں کی ہیں، ورنہ میرے درجے اور حیثیت کا آدمی ایک پیشہ ور لڑکی کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی ایسی باتیں کبھی نہ کرتا۔ "یہ آپ کو آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ہے۔ " کوئی نے کہا۔ مجھے یہ بتائیے کہ صلاح الدین ایوبی تک میری رسائی کس طرح ہوگی۔ "میں اُسے ایک جشن میں بلا رہا ہوں ۔ ناجی نے کہا۔ اُسے رات اپنے ہاں رکھوں گا اور تمہیں اُس کی خواب گاہ میں داخل کر دوں گا۔ میں نے تمہیں اس مقصد کے لیے بلایا ہے۔ "آگے میں سنبھال لوں گی۔ وہ رات گزرگئی، پھر اورکئی راتیں گزر گئیں۔ صلاح الدین ایوبی انتظامی کاموں اور نئی فوج تیار کرنے میں مصروف رہا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نہ نکال سکا۔ علی بن سفیان نے اُسے ناجی کے متعلق جو رپورٹ دی، اس سے وہ پریشان ہو گیا
Use these settings →2026-04-04
11716d39-6bbe-4c0b-81b2-9f6c229db5ea
ID: e0b2c5ca-1f46-45de-a3d7-7a804070000b
Created: 2026-04-04T12:47:43.135Z