Free English Text to Speech

1434998c-287b-4648-a6f5-836623d30aa0

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھ کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، اور ختنہ کرنا ۔

Use these settings →

2026-03-29

1434998c-287b-4648-a6f5-836623d30aa0

ID: 3de5e8af-9d8a-4f07-9d07-3349af775a87

Created: 2026-03-29T03:33:26.021Z

More Shares

bb040424-856d-465e-9241-384c1d1f0dfd

شاید ماری کے ساتھ بھی کچھ برا ہو جائے؟ چلو دوستو، آگے دیکھتے ہیں۔اگلے منظر میں، ارنسٹ کسی اور جگہ گڑھا کھود رہا ہے اس امید میں کہ شاید وہاں سے کچھ پانی نکل آئے، لیکن بڑی مشینوں کی پائپ لائن کی وجہ سے آس پاس کا پورا علاقہ خشک ہو چکا تھا، اس لیے ارنسٹ کو یہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گڑھا کھودتے ہوئے، ارنسٹ جیروم سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "جب میں شہر گیا، تو میں نے ایک لڑکی دیکھی جس کے بال چھوٹے تھے۔لیکن وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت تھی۔ بیٹے، تم بڑے ہو گئے ہو۔ اگر تم کہو تو مجھے اس سے بات کروا دو۔ میں نہیں جانتا کہ ہم اس حالت میں کتنی دیر تک زندہ رہ پائیں گے، اس لیےجو بھی لمحے ہمارے پاس باقی ہیں، ہمیں انہیں اچھے طریقے سے جینا چاہیے۔ اور دوستو، باپ اور بیٹا ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں اور کچھ وقت خوشگوار طریقے سے ایک ساتھ گزارتے ہیں۔اس کے بعد، جیسے ہی ارنسٹ گھر واپس آتا ہے، ماری کہتی ہے، "مجھے پیسے چاہیے، پاپا، میں فیلَم کے ساتھ جا رہی ہوں۔ یہاں رہ کر مجھے بہت دباؤ محسوس ہو رہا ہے۔" ارنسٹ کہتا ہے، "میں…میں نے تمہیں بچپن سے پرویا، تمہیں سب کچھ دینے کی کوشش کی، اور پھر بھی تم ایسا بات کر رہی ہو۔ ماری جواب دیتی ہے، "ہم یہاں زندگی نہیں گزار رہے، ہم بس بچ رہے ہیں، اور میں ایسی زندگی نہیں چاہتی۔"

"bb040424-856d-465e-9241-384c1d1f0dfd"

c19371c9-12a9-4f83-a6f4-72cf224ec08b

یک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دکان دار “حسن چاچا” کی دکان بہت مشہور تھی۔ ان کی دکان میں کھانے پینے کی چیزیں، کھلونے اور سکول کا سامان ملتا تھا۔ بچے روزانہ ان کی دکان پر آتے اور خوشی سے چیزیں خریدتے۔ ایک دن ایک غریب لڑکا “علی” دکان پر آیا۔ اس کے پاس صرف چند سکے تھے۔ اس نے حسن چاچا سے کہا، “چاچا، کیا میں اس پیسے میں ایک پنسل لے سکتا ہوں؟” حسن چاچا نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، ضرور!” اچانک علی نے اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کہا، “میری ماں بیمار ہے اور میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہیں۔” حسن چاچا نے یہ سنا تو بہت اداس ہو گئے۔ انہوں نے فوراً علی کو دوائی اور کچھ کھانا دے دیا اور کہا، “بیٹا، پیسے بعد میں دینا، پہلے اپنی ماں کا خیال رکھو۔” علی بہت خوش ہوا اور دعا دینے لگا۔ کچھ دن بعد اس کی ماں ٹھیک ہو گئی۔ علی واپس آیا اور حسن چاچا کے پیسے بھی واپس کیے اور شکریہ ادا کیا۔ حسن چاچا نے کہا، “اصل خوشی دوسروں کی مدد کرنے میں ہے۔” سبق: دوسروں کی مدد کرنا سب سے بڑی نیکی ہے

"c19371c9-12a9-4f83-a6f4-72cf224ec08b"

3ff970ab-f200-4539-aef7-45cc39f95c95

1981 mein... Harvard ke professor Ellen Langer ne ek experiment kiya. Unhone 8 budhhe mard liye... sab 70 se 80 saal ke. Unhe ek jagah le gaye... jo 1959 jaisi thi. Wahi music... wahi newspapers... wahi TV shows. Aur unse kaha — tum 1959 mein ho... waise sochna shuru karo. Sirf ek hafte baad... unki eyesight improve ho gayi. Memory better ho gayi. Fingers seedhi ho gayi arthritis ke bawajood. Ek aadmi... jo jhuk ke chalta tha... woh seedha chalne laga. Koi dawai nahi. Koi injection nahi. Sirf dimaag ki soch badli... aur body ne follow kiya. Ab science explain karti hai... yeh hota kaise hai. Jab tum believe karte ho ki kuch kaam karega... tumhara brain actually chemicals release karta hai. Endorphins — jo natural painkillers hain. Dopamine — jo feel good hormone hai. Serotonin — jo mood better karta hai. Matlab tumhara belief... literally... tumhare body ki chemistry change kar deta hai. Aur iska sabse bada proof — ek knee surgery experiment. Patients ko do groups mein baanta gaya. Ek group ki asli surgery hui. Doosre group ki... sirf cheera lagaya... aur band kar diya. Koi asli surgery nahi. Result? Dono groups ne same recovery report ki. Dono ka dard same kam hua. Yeh sun ke lagta hai — toh kya doctors jhooth bolte hain? Nahi. Placebo itna powerful hai... ki asli dawai ke saath bhi kaam karta hai. Matlab agar tum believe karo... ki dawai kaam karegi — woh aur zyada kaam karti hai. Ab isko apni zindagi se jodo. Kya tumne kabhi dekha hai... athletes apne shoes touch karte hain match se pehle? Ya koi lucky charm rakhte hain? Ek study mein golfers ko bataya gaya... ki yeh lucky ball hai. Unka performance 35 percent better hua. Ball wahi thi. Sirf belief badla. Doosra example — neend ka. Ek experiment mein logon ko bataya gaya... ki unhone bahut achhi neend li. Jabki unhone actually kam soye the. Aur next day unka performance better tha. Kyunki unhe lagta tha — woh fresh hain.

"3ff970ab-f200-4539-aef7-45cc39f95c95"

c4356835-fba9-490d-8d8f-0fa32972e574

انفاق فی سبیل اللہ معاشرے کے تطہیر اور روح کی بالیدگی اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی، معاشی اور اخلاقی پہلوؤں کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔ اپنی تعلیمات میں ایک نہایت اہم اور بنیادی تصور انفاق فی سبیل اللہ کا ہے، جس کا مطلب ہے اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنا۔ یہ صرف مالی لین دین نہیں بلکہ ایک روحانی عمل ہے، جو انسان کے دل کو بخل اور حرص سے پاک کرتا ہے اور اسے ایثار، ہمدردی اور قربانی جیسے اعلیٰ اوصاف سے مزین کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر انفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ یہ تمثیل اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں خرچ کیا گیا مال ضائع نہیں ہوتا بلکہ کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کا دائرہ صرف زکوٰۃ تک محدود نہیں بلکہ صدقاتِ خیرات، ضرورت مندوں کی مدد، تعلیم، صحت اورسماجی انصاف کو فروغ دینے کی ہر کوشش بھی اس کا حصہ ہے نبی کریم ﷺ نے بھی انفاق کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اللہ اس میں برکت عطا فرماتا ہے۔ یہ تعلیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی معاشرہ صرف افراد کی ذاتی خوشحالی کا نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کا بھی خواہاں ہے، جہاں صاحبِ حیثیت افراد اپنے وسائل کو دوسروں کے ساتھ بانٹ کر معاشرتی توازن برقرار رکھیں اور غربت و محرومی کا خاتمہ ہو۔ انفاق کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ صرف کسی مالی کمی کو پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کی تنگی کو بھی دور کرتا ہے۔ جو شخص اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اس کی محبت میں اپنا کچھ خرچ کرتا ہے، وہ حساب میں نہیں رہتا

"c4356835-fba9-490d-8d8f-0fa32972e574"

← Return to Studio