Free English Text to Speech

dce453fb-e9f4-4f55-9747-9f117bf7c201

ایک گھر میں میاں بیوی رہتے تھے بیوی اٹھتی ہے اور شہور کے لیے کھانا بناتی ہے پھر شوہر کو اٹھانے جاتی ھے شوہر کھنا کھاتا ھےکھانا کھانے کے بعد شوہر اوفس چلا جاتا ہے

Use these settings →

2026-04-07

dce453fb-e9f4-4f55-9747-9f117bf7c201

ID: d9b92d82-3756-4b6e-bd6f-7ff4ea1661bc

Created: 2026-04-07T08:33:08.317Z

More Shares

a02f6262-e977-43e7-afc8-03447b0c10b6

پھر وہ الماریوں کے اندھیروں سے سال بھر بعد نکلنے والے ”شاہی برتن“ تانبے اور سٹیل کے وہ برتن جنہیں رگڑ رگڑ کر چمکایا جاتا تھا صحن کے کونے میں بیٹھ کر صابن اور راکھ سے برتن دُھوئے جاتے تھے ہم ان میں اپنی شکلیں دیکھتے اور ہنستے تھے۔اس کے فوراً بعد باری آتی ان کڑھائی والے میز پوشوں کی، جن کے ڈیزائن اور کونوں کو سیدھا کرنے پر بہنوں کی ایسی ”خونی لڑائی“ ہوتی تھی کہ لگتا تھا اب کبھی صلح نہیں ہو گی۔ وہ سفید لٹھ کے تکیوں پر بنے رنگین پھول، جن پر سر رکھ کر ہمیں لگتا تھا ہم کسی جنت کے محل میں سو رہے ہیں۔ وہ ”درزی“ کا قصہ تو آج بھی ایک زخم کی طرح تازہ ہے۔ابا کا ہر دوسرے دن درزی کی دکان پر جا کر اسے ”ڈانٹ“ پلانا اور درزی کا دانت نکال کر جھوٹی تسلیاں دینا․․․اور پھر عید کی رات وہ کلف لگے کڑکڑاتے کپڑے گھر لانا ایک ایسی فتح تھی جیسے ہم نے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ ہم ان نئے کپڑوں کو تکیے کے نیچے چھپا کر سوتے تھے، اور رات بھر میں کئی بار آنکھ کھلتی تو بس یہ چیک کرتے کہ کہیں استری تو خراب نہیں ہو گئی۔ عید کی وہ صبح! جب گاؤں کے سب بچے مل کر مٹی کے گھروندے بناتے تھے اور لکڑی کے تختوں پر بیٹھ کر عیدی کے وہ کڑکڑاتے نوٹ گنتے تھے۔کوئی پرایا نہیں تھا، ہر بڑے کا ہاتھ سر پر شفقت سے مڑتا تھا اور ہر گھر سے آتی سوئیوں کی خوشبو پورے محلے کو ایک دسترخوان بنا دیتی تھی۔ آج ہم نے مٹی کے گھر چھوڑ کر سیمنٹ کے ”سرد محل“ تو بنا لیے، برانڈڈ کپڑے بھی پہن لیے، لیکن وہ ”اپنائیت“ اور وہ ”روحانیت“ کہیں پیچھے چھوٹ گئی۔اب دیواریں پکی ہو گئیں مگر دل کچے ہو گئے۔اب عید صرف تصویروں اور واٹس ایپ اسٹیٹس میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔ہم مٹی کے گھروں سے نکل کر ان کنکریٹ کے جنگلوں میں آ کر بہت اکیلے ہو گئے ہیں۔وہ 90 کی دہائی کی عیدیں بھی عجیب تھیں․․․جیبیں خالی تھیں مگر دل بھرے ہوئے تھےاب جیبیں بھری ہیں، مگر دل خالی ہیں۔

"a02f6262-e977-43e7-afc8-03447b0c10b6"

پھر وہ الماریوں کے اندھیروں سے سال بھر بعد نکلنے والے ”شاہی برتن“ تانبے اور سٹیل کے وہ برت

chirp3

"پھر وہ الماریوں کے اندھیروں سے سال بھر بعد نکلنے والے ”شاہی برتن“ تانبے اور سٹیل کے وہ برتن جنہیں رگ..."

8373b11d-8024-4fcd-af45-e7257e960219

अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी से सरस्वती चौक होते हुए उजियारपुर को जोड़ती है। लेकिन आज इसकी हालत इतनी जर्जर हो चुकी है कि शब्द भी कम पड़ जाएं। सड़क पर चलना मुश्किल ही नहीं, बल्कि खतरे से खाली भी नहीं है। यहां जो रिपेयरिंग का काम चल रहा है… वो काम नहीं, सिर्फ दिखावा लगता है। सड़क पर बस रोड़े बिछा दिए गए हैं… और काम को ऐसे ही छोड़ दिया गया है। न कोई फिनिशिंग, न कोई सही दबाव (रोलर से), न कोई जिम्मेदारी! रोलर गाड़ी एक तरफ खड़ी है… और जनता को भगवान भरोसे छोड़ दिया गया है। पैदल यात्री, साइकिल, मोटरसाइकिल, फोर

"8373b11d-8024-4fcd-af45-e7257e960219"

अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी स

chirp3

"अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी से सरस्वती ..."

3e91527c-dbfb-48c4-b496-49b4e7a8a6bc

“Subah uthte hi ye 3 galti karte ho?

"3e91527c-dbfb-48c4-b496-49b4e7a8a6bc"

अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी स

chirp3

"अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी से सरस्वती ..."

अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी स

chirp3

"अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी से सरस्वती ..."

अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी स

chirp3

"अभी मैं खड़ा हूँ महेशपट्टी में… और आप ये सड़क देख सकते हैं— यही वो सड़क है जो मुसरीघरारी से सरस्वती ..."

← Return to Studio