ballad
Use these settings →2026-02-25
نیشاپور کی فضاؤں میں اب خوف کا راج تھا۔ وزیر منصور نے اپنے پہرے دار ہر جگہ بٹھا دیے تھے، لیکن ساربان اور بندر نے بدو سپاہیوں کی مدد سے بھیس بدلا اور رات کی سیاہی میں شہر پناہ کی دیوار عبور کی۔ بندر نے اپنے سینے سے وہی بوسیدہ شطرنج کا تختہ لگا رکھا تھا، جس کے اندر اب وہ شاہی خط چھپا تھا جو منصور نے اپنے قاتلوں کو لکھا تھا اور جو اتفاق سے بندر کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ بندر جانتا تھا کہ سیدھا دروازے سے داخل ہونا موت کو دعوت دینا ہے۔ وہ کسی تجربہ کار جاسوس کی طرح محل کی دیواروں پر چڑھا اور چھتوں کے راستے والی کے خواب گاہ کی کھڑکی تک پہنچ گیا۔ والی اکیلا بیٹھا شطرنج کے مہروں کو دیکھ رہا تھا اور اسے وہ عجیب و غریب بندر یاد آ رہا تھا جس نے اس کے دربار کی رونق بڑھائی تھی۔ اچانک کھڑکی سے بندر نے اندر چھلانگ لگائی۔ والی پہلے تو خوفزدہ ہوا اور تلوار نکال لی، لیکن جب اس نے بندر کی آنکھوں میں وہی پرانی عقیدت اور درد دیکھا تو اس کا ہاتھ رک گیا۔ بندر نے نہایت سکون سے وہ خط والی کے سامنے رکھ دیا اور شطرنج کی بساط پر مہروں کو اس طرح ترتیب دیا کہ وہ ایک قید خانے کی شکل اختیار کر گئے۔ والی نے خط پڑھا تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی؛ یہ وزیر منصور کی غداری کا جیتا جاگتا ثبوت تھا۔
ID: bc61c69f-5f72-4f23-82c1-fdfda64640e3
Created: 2026-02-25T17:33:37.822Z