Free English Text to Speech

5835498b-b58e-47e4-b98b-4f00999540ff

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک خوبصورت سے گاؤں میں احمد نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ احمد بہت چالاک اور ہوشیار تھا، مگر اس میں ایک بری عادت تھی۔ وہ اکثر اپنے دوستوں کی چیزیں بغیر اجازت لے لیتا تھا اور اسے یہ کوئی بڑی بات نہیں لگتی تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں لینے سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے۔ احمد کا ایک بہت اچھا دوست تھا، جس کا نام علی تھا۔ علی بہت ایماندار اور نرم دل لڑکا تھا۔ ایک دن علی اپنے ساتھ ایک نئی اور خوبصورت پینسل لے کر آیا۔ وہ پینسل اسے اس کے ابو نے انعام کے طور پر دی تھی۔ علی اس پینسل کو بہت سنبھال کر رکھتا تھا۔ جب احمد نے وہ پینسل دیکھی تو اس کا دل لالچ میں آ گیا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ یہ پینسل لے لے تو کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ چنانچہ جب علی کھیلنے میں مصروف تھا، احمد نے چپکے سے وہ پینسل اٹھا لی اور اپنے بستے میں رکھ لی۔ کچھ دیر بعد علی نے اپنی پینسل ڈھونڈنا شروع کی، مگر وہ کہیں نہیں ملی۔ علی بہت پریشان ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا، “میری پینسل کہاں گئی؟ وہ تو میرے لیے بہت خاص تھی۔” احمد یہ سب دیکھ رہا تھا، مگر وہ خاموش رہا۔ اس رات احمد اپنے بستر پر لیٹا، مگر اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ اسے بار بار علی کا اداس چہرہ یاد آ رہا تھا۔ اس کے دل میں عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ سوچنے لگا، “میں نے بہت غلط کیا ہے۔ ایک چھوٹی سی چیز کے لیے میں نے اپنے دوست کو اتنا دکھ دیا۔” آخرکار احمد کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اگلے دن علی سے سچ بولے گا اور معافی مانگے گا۔ اگلی صبح احمد سکول گیا تو اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ علی کے پاس گیا اور دھیرے سے بولا، “علی، مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے۔” علی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ احمد نے کہا، “مجھے معاف کر دو، تمہاری پینسل میں نے لی تھی۔ میں نے غلطی کی۔” علی کچھ دیر خاموش رہا، پھر اس نے مسکرا کر کہا، “کوئی بات نہیں احمد، اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔” احمد کو بہت سکون ملا۔ اس نے پینسل واپس کی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی کسی کی چیز بغیر اجازت نہیں لے گا۔ اس دن کے بعد احمد نے اپنی عادت بدل لی اور

Use these settings →

2026-04-05

5835498b-b58e-47e4-b98b-4f00999540ff

ID: b61f37f0-609e-4b08-9467-e0b7f261b72f

Created: 2026-04-05T12:23:52.661Z

More Shares

ae13c380-ab98-49a5-bf94-215b772dcb5a

ہر خطے کے باشندوں کو یہ حق دینا ہے کہ وہ ہماری فوج میں آئیں۔ اپنے جوہر دکھائیں اور مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کریں ۔ یہاں کے عوام کا معیار زندگی ہی طرح بلند ہو سکتا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی نے انہیں بتایا۔ میں نے ناجی سے کہ دیا ہے کہ وہ عام بھرتی شروع کر دے ؟ "کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا ؟ ایک ناظم نے اُس سے پوچھا۔ "کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کرے گا؟" "وہ گریز کر سکتا ہے " ناظم نے جواب دیا کہ فوجی امور اسی کے سپرد ہیں۔ وہ کسی سے حکم لیا نہیں کرتا ۔ اپنی منوایا کرتا ہے ؟ صلاح الدین ایوبی خاموش رہا جیسے اس پر کچھ اثر ہی نہ ہوا ہو۔ اُس نے سب کو رخصت کر دیا اور صرف علی بن سفیان کو اپنے ساتھ رکھا۔ علی بن سفیان جاسوسی اور جوابی جاسوسی کا ماہر تھا۔ اسے صلاح الدین ایوبی بغدار سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اداکاری ، چرب زبانی اور بھیس بدلنے میں مہارت رکھتا تھا۔ جنگوں میں اس نے جاسوسی کی بھی تھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی تھا ۔ اس کا اپنا گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی توڑ لاتا تھا۔ صلاح الدین ایوبی کو جاسوسی کی اہمیت سے واقفیت تھی ۔ فنی مہارت کے علاوہ علی میں وہی جذبہ تھا جو صلاح الدین ایوبی میں تھا

"ae13c380-ab98-49a5-bf94-215b772dcb5a"

0a82662a-1f91-4efb-b7be-0a80aedf19ad

ارنسٹ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ وائر سسٹم خرید کر گھر لے جا سکے، اس لیے وہ اور اس کے خاندان والے کیتھرین سے ہسپتال میں ہی ملنے جاتے ہیں۔اب ہسپتال کے باہر، ارنسٹ کی ملاقات ایک آدمی بوبی سے ہوتی ہے۔ جو، ارنسٹ کا اچھا دوست ہے اور اس کے بہت قریب ہے۔ اس کے پاس رہنے کے لیے گھر بھی نہیں ہےوہ ذہنی طور پر بھی کمزور ہے، اس لیے ارنسٹ جو تھوڑا سا پانی اپنے پاس رکھتا ہے، وہ بوبی اور اس کے خاندان کو دے دیتا ہے، کیونکہ باوجود کہ ارنسٹ کے پاس بھی پانی کم ہے،ارنسٹ کے پاس بھی پانی کی کمی ہے، لیکن اس آدمی کا دل بہت اچھا ہے۔ اب جیسے ہی ارنسٹ وہاں سے گھر واپس آتا ہے، فلم اس کے پاس پہنچتی ہے اور کہتی ہے کہ "میںتمہارا روبوٹ چاہتی ہوں، کچھ اہم کام ہے، یہ بات ارنسٹ جانتا ہے۔ کہا گیا تھا کہ فیل کا نمبر ون فراڈی ہے، وہ روبوٹ واپس دینے کا بہانہ کرے گا، اسی لیے دوستو، ارنسٹروبوت دینے سے ارنسٹ نے صاف انکار کر دیا۔ اور دوستو، میں آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ فیل اور ارنسٹ کی بیٹی ماری ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں ہیں۔ ارنسٹ نےارنسٹ نے ماری کو کئی بار سمجھایا کہ اسے فیلَم سے دور رہنا چاہیے، وہ اچھا آدمی نہیں ہے، لیکن ماری سننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ فیلَم کی وجہ سے وہ اپنے باپ سے نفرت کرنے لگی تھی۔ دوستو، بتاؤ، والدین کبھی غلط نہیں ہوتے۔ کیا بچوں کے ساتھ برائی نہیں ہوتی جو اپنے والدین کی بات نہیں سنتے؟

"0a82662a-1f91-4efb-b7be-0a80aedf19ad"

← Return to Studio