ہر خطے کے باشندوں کو یہ حق دینا ہے کہ وہ ہماری فوج میں آئیں۔ اپنے جوہر دکھائیں اور مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کریں ۔ یہاں کے عوام کا معیار زندگی ہی طرح بلند ہو سکتا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی نے انہیں بتایا۔ میں نے ناجی سے کہ دیا ہے کہ وہ عام بھرتی شروع کر دے ؟ "کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا ؟ ایک ناظم نے اُس سے پوچھا۔ "کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کرے گا؟" "وہ گریز کر سکتا ہے " ناظم نے جواب دیا کہ فوجی امور اسی کے سپرد ہیں۔ وہ کسی سے حکم لیا نہیں کرتا ۔ اپنی منوایا کرتا ہے ؟ صلاح الدین ایوبی خاموش رہا جیسے اس پر کچھ اثر ہی نہ ہوا ہو۔ اُس نے سب کو رخصت کر دیا اور صرف علی بن سفیان کو اپنے ساتھ رکھا۔ علی بن سفیان جاسوسی اور جوابی جاسوسی کا ماہر تھا۔ اسے صلاح الدین ایوبی بغدار سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اداکاری ، چرب زبانی اور بھیس بدلنے میں مہارت رکھتا تھا۔ جنگوں میں اس نے جاسوسی کی بھی تھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی تھا ۔ اس کا اپنا گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی توڑ لاتا تھا۔ صلاح الدین ایوبی کو جاسوسی کی اہمیت سے واقفیت تھی ۔ فنی مہارت کے علاوہ علی میں وہی جذبہ تھا جو صلاح الدین ایوبی میں تھا
Use these settings →2026-04-04
ae13c380-ab98-49a5-bf94-215b772dcb5a
ID: 832adae7-635f-47f2-8c1f-4acc6621171a
Created: 2026-04-04T04:06:56.501Z