Free Urdu Text to Speech

مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) و سابق امیدوار اسمبلی ثمر سراج چوہدری نے ایران ا

مرکزی جوائنٹ سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) و سابق امیدوار اسمبلی ثمر سراج چوہدری نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے بیان میں ثمر سراج چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم اور مثبت کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت اور جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نے پاکستان کا عالمی سطح پر وقار بلند کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کا داعی رہا ہے، اور موجودہ پیش رفت اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ثمر سراج چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد ثابت ہوگی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ فخر ہے اور پوری قوم اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے

ID: af234bf2-abc6-4be5-939b-3a42345bd15b

Created: 2026-04-09T21:04:01.423Z

More Shares

7537d229-f1d5-40d6-9bcf-868a21d29f82

اس کہانی میں آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ اُس کی تلوار کا وار تو گہرا ہوتا ہی تھا ، اس کی محبت کا وار اس سے کہیں زیادہ مار کرتا تھا۔ اس کے لئے تحمل اور برد باری کی ضرورت ہوتی ہے جو اس نے اوائل عمری میں ہی اپنے آپ میں پیدا کر لی تھی۔ اُسے جب مصر کا وائسرائے اور کمانڈر انچیف بنا کر مصر بھیجا گیا تو ان سینئر افسروں نے ہنگامہ برپا کر دیا جو اس عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے ۔ اُن کی نگاہ میں صلاح الدین ایوبی ابھی طفل مکتب تھا مگر اس طفل مکتب نے جب اُن کا سامنا کیا، اُس کی باتیں سنیں تو ان کا احتجاج سرد پڑ گیا۔ مورخ لین پول کے مطابق صلاح الدین ایوبی ڈسپلن کا بڑا ہی سخت ثابت ہوا۔ اس نے تفریح ، عیاشی اور آرام کو اپنے لیے اور اپنی افواج کے لیے حرام قرار دے دیا۔ اس نے اپنی دماغی اور جسمانی قوتوں کو صرف اس مقصد پر مرکوز کر دیا کہ سلطنت اسلامیہ کو مستحکم کرنا ہے اور صلیبیوں کو اس سر زمین سے نکالنا ہے۔ فلسطین پر وہ ہر قیمت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے یہی مقاصد اپنی ے بھی مقاصد اتمی فوج کو دیئے۔ مصر کا وائسرائے بن کر اس نے کہا۔ خدا نے مجھے مصر کی سر زمین دی ہے ۔ اس کی ذات باری مجھے فلسطین بھی ضرور عطا کرے گی۔ مگر مصر پہنچ کر اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نہیں بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں نے اس کی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بچھا رکھے ہیں جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوت سے زیادہ خطرناک ہیں۔ مصر میں صلاح الدین ایوبی کا استقبال جن زعما نے کیا ان میں ناجی نام کا ایک سالار خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ ایوبی نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکرا مبٹ اور زبان پر پیار و محبت کی چاشنی تھی ۔

"7537d229-f1d5-40d6-9bcf-868a21d29f82"

← Return to Studio