Free English Text to Speech

7537d229-f1d5-40d6-9bcf-868a21d29f82

اس کہانی میں آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ اُس کی تلوار کا وار تو گہرا ہوتا ہی تھا ، اس کی محبت کا وار اس سے کہیں زیادہ مار کرتا تھا۔ اس کے لئے تحمل اور برد باری کی ضرورت ہوتی ہے جو اس نے اوائل عمری میں ہی اپنے آپ میں پیدا کر لی تھی۔ اُسے جب مصر کا وائسرائے اور کمانڈر انچیف بنا کر مصر بھیجا گیا تو ان سینئر افسروں نے ہنگامہ برپا کر دیا جو اس عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے ۔ اُن کی نگاہ میں صلاح الدین ایوبی ابھی طفل مکتب تھا مگر اس طفل مکتب نے جب اُن کا سامنا کیا، اُس کی باتیں سنیں تو ان کا احتجاج سرد پڑ گیا۔ مورخ لین پول کے مطابق صلاح الدین ایوبی ڈسپلن کا بڑا ہی سخت ثابت ہوا۔ اس نے تفریح ، عیاشی اور آرام کو اپنے لیے اور اپنی افواج کے لیے حرام قرار دے دیا۔ اس نے اپنی دماغی اور جسمانی قوتوں کو صرف اس مقصد پر مرکوز کر دیا کہ سلطنت اسلامیہ کو مستحکم کرنا ہے اور صلیبیوں کو اس سر زمین سے نکالنا ہے۔ فلسطین پر وہ ہر قیمت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے یہی مقاصد اپنی ے بھی مقاصد اتمی فوج کو دیئے۔ مصر کا وائسرائے بن کر اس نے کہا۔ خدا نے مجھے مصر کی سر زمین دی ہے ۔ اس کی ذات باری مجھے فلسطین بھی ضرور عطا کرے گی۔ مگر مصر پہنچ کر اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نہیں بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں نے اس کی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بچھا رکھے ہیں جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوت سے زیادہ خطرناک ہیں۔ مصر میں صلاح الدین ایوبی کا استقبال جن زعما نے کیا ان میں ناجی نام کا ایک سالار خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ ایوبی نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکرا مبٹ اور زبان پر پیار و محبت کی چاشنی تھی ۔

Use these settings →

2026-03-31

7537d229-f1d5-40d6-9bcf-868a21d29f82

ID: 74c6fb13-036e-49b1-af07-01ab4913e398

Created: 2026-03-31T02:32:20.351Z

More Shares

← Return to Studio