Free English Text to Speech

70a0831f-9d83-4888-9b26-43832bbbb960

کیا یہ انسان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ جی ہاں، بعض حالات میں جنات انسان پر اثر ڈال سکتے ہیں، جیسے وسوسے ڈالنا یا ڈرانا وغیرہ۔ in کی کئی علامات ذکر کیے جاتے ہیں

Use these settings →

2026-03-29

70a0831f-9d83-4888-9b26-43832bbbb960

ID: 9da11623-2528-4f6e-9c70-cd1d80893ec5

Created: 2026-03-29T06:09:03.087Z

More Shares

d9bf278e-6c75-4d32-97c4-46b51a65e414

یہ خبر جب صلاح الدین ایوبی کے سٹاف تک پہنچی کہ ناجی صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جو جشن منعقد کر رہا ہے اس میں ناچ گانا ہوگا اور شراب بھی پی جائے گی اور صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان خرافات کے باوجود قبول کر لی ہے، تو سب حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ہے وہ دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا ہے اور کسی نے یہ رائے دی کہ ناجی کا جادو صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ہے ۔ یہ رائے اُن سربراہوں کو پسند آئی جو ناجی کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی اُن کے لیے عیش و عشرت ، شراب نوشی اور بدکاری جرم قرار دے دی تھی ۔ اس نے ایسا سخت ڈسپلن رانج کر دیا تھا کہ کسی کو پہلے کی طرح فرائض سے کوتاہی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ وہ اس پر خوش تھے کہ آج نئے امیر مصر نے کسی دعوت میں شراب اور رقص کی اجازت دے دی ہے تو کل پر سول وہ خود بھی ان رنگینیوں کا رسیا ہو جائے گا۔ صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ صلاح الدین ایوبی نے خرافات کی اجازت کیوں دی ہے ۔ جشن کی شام آگئی ۔ ایک تو چاندنی رات تھی ۔ صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ہوتی ہے کہ ریت کے ذرے بھی نظر آ جاتے ہیں ۔ دوسرے ہزار ہا مشعلوں نے وہاں صحرا کی رات کو دن بنا دیا تھا ۔ باڈی گارڈز کا ہجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ۔ ایک طرف صلاح الدین ایوبی کے بیٹھنے کے لیے جو مسند رکھی گئی تھی وہ کسی بہت بڑے بادشاہ کا تخت معلوم ہوتی تھی ۔ اس کے دائیں بائیں بڑے رتبوں کے مہمانوں کی نشستیں تھیں ۔ اس وسیع و عریض تماشہ گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ۔ ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی ۔ علی بن سفیان نے سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جا کر اس خیمے کے ارد گرد محافظ کھڑے کر دیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رہا تھا ، ناجی ، ذوکوئی کو آخری ہدایات دے رہا تھا۔ اُس شام ذوکوئی کا حسن کچھ زیادہ ہی نکھر آیا تھا۔ اُس کے جسم سے ایسے عطر کی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی جس میں سحر کا تاثر تھا ۔ اُس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیئے تھے ۔ سپید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاہدوں کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے ۔ اس کا لباس اس قدر باریک تھا کہ اس کے جسم کے تمام نشیب و فراز نظر آتے تھے

"d9bf278e-6c75-4d32-97c4-46b51a65e414"

← Return to Studio