یہ خبر جب صلاح الدین ایوبی کے سٹاف تک پہنچی کہ ناجی صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جو جشن منعقد کر رہا ہے اس میں ناچ گانا ہوگا اور شراب بھی پی جائے گی اور صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان خرافات کے باوجود قبول کر لی ہے، تو سب حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ہے وہ دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا ہے اور کسی نے یہ رائے دی کہ ناجی کا جادو صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ہے ۔ یہ رائے اُن سربراہوں کو پسند آئی جو ناجی کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ہی اُن کے لیے عیش و عشرت ، شراب نوشی اور بدکاری جرم قرار دے دی تھی ۔ اس نے ایسا سخت ڈسپلن رانج کر دیا تھا کہ کسی کو پہلے کی طرح فرائض سے کوتاہی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ وہ اس پر خوش تھے کہ آج نئے امیر مصر نے کسی دعوت میں شراب اور رقص کی اجازت دے دی ہے تو کل پر سول وہ خود بھی ان رنگینیوں کا رسیا ہو جائے گا۔ صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ صلاح الدین ایوبی نے خرافات کی اجازت کیوں دی ہے ۔ جشن کی شام آگئی ۔ ایک تو چاندنی رات تھی ۔ صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ہوتی ہے کہ ریت کے ذرے بھی نظر آ جاتے ہیں ۔ دوسرے ہزار ہا مشعلوں نے وہاں صحرا کی رات کو دن بنا دیا تھا ۔ باڈی گارڈز کا ہجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ۔ ایک طرف صلاح الدین ایوبی کے بیٹھنے کے لیے جو مسند رکھی گئی تھی وہ کسی بہت بڑے بادشاہ کا تخت معلوم ہوتی تھی ۔ اس کے دائیں بائیں بڑے رتبوں کے مہمانوں کی نشستیں تھیں ۔ اس وسیع و عریض تماشہ گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ۔ ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی ۔ علی بن سفیان نے سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جا کر اس خیمے کے ارد گرد محافظ کھڑے کر دیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رہا تھا ، ناجی ، ذوکوئی کو آخری ہدایات دے رہا تھا۔ اُس شام ذوکوئی کا حسن کچھ زیادہ ہی نکھر آیا تھا۔ اُس کے جسم سے ایسے عطر کی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی جس میں سحر کا تاثر تھا ۔ اُس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیئے تھے ۔ سپید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاہدوں کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے ۔ اس کا لباس اس قدر باریک تھا کہ اس کے جسم کے تمام نشیب و فراز نظر آتے تھے
Use these settings →2026-04-05
d9bf278e-6c75-4d32-97c4-46b51a65e414
ID: 205465af-26e1-45fa-82de-23cd2cb0689b
Created: 2026-04-05T08:07:56.112Z