اُس نے ایوبی کی پیشانی چوم کر کہا۔ " میرے خون کا آخری قطرہ بھی تمہاری جان کی حفاظت کے لیے بہے گا۔ تم میرے پاس زنگی اور شروہ کی امانت ہو ۔ " میری جان عظمت اسلام سے زیادہ قیمتی نہیں "۔ صلاح الدین ایوبی نے ناجی کا ہاتھ چوم کر کہا۔ " محترم ! اپنے خون کا ایک ایک نظرہ سنبھال کر رکھئے۔ صلیبی سیاہ گھٹاؤں کی مانند چھا رہے ہیں ۔ ناجی جواب میں صرف مسکرایا جیسے صلاح الدین ایوبی نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔ صلاح الدین ایوبی اس تجربہ کار سالار کی مسکراہٹ کو غالبا نہیں سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خلافت کا پروردہ سالار تھا ۔ وہ مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر تھا جس کی نفری پچاس ہزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔ یہ فوج اُس دور کے جدید ہتھیاروں سے مسلح تھی اور یہ فوج ناجی کا ہتھیار بن گئی تھی جس کے زور پر وہ بے تاج بادشاہ بنا بیٹھا تھا۔ وہ سازشوں اور مفاد پرستی کا دور تھا۔ اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی۔ صلیبیوں کی بھی نہایت دلکش تخریب کاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔ جس کے پاس ذرا سی بھی طاقت نفی، اسے وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے اور دولت سمیٹنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ سوڈانی باڈی گارڈز فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراہوں کے لیے دہشت بنا ہوا تھا۔ خدا نے اسے سازش ساز دماغ دیا تھا۔ اُسے اُس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا ۔ بنانے اور بگاڑنے میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے صلاح الدین ایوبی کو دیکھا تو اس کے چہرے پر بالکل اسی طرح مسکراہٹ آگئی جس طرح کمزور سی بھیڑ کو دیکھ کر بھیڑیئے کے دانت نکل آتے ہیں۔ ایوبی اس زہر خند کو نہ سمجھ سکا۔ اُس کے لیے سب سے زیادہ اہم آدمی ناجی ہی تھا کیونکہ وہ پچاس ہزار باڈی گارڈز کا کمانڈر تھا اور صلاح الدین کو اس فوج کی ضرورت تھی ۔
Use these settings →2026-04-01
ae710a3a-2bc1-410d-9581-3db65200e831
ID: 9c47529e-3c41-43d7-82bb-0fde7b958593
Created: 2026-04-01T13:27:06.633Z