Free English Text to Speech

b1b0c280-f402-46af-a8a7-b46fd99c3121

کیا آپ جانتے ہیں کہ خلا میں جانے والا پہلا افغان، پہلا مسلمان، اور پہلا پشتون کون تھا؟ یہ اعزاز حاصل ہے عبدالاحد مومند کو۔ عبدالاحد مومند نے تاریخ رقم کی جب وہ سوویت یونین کے خلائی مشن Soyuz TM-6 کے ذریعے خلا میں گئے۔ یہ مشن اُس وقت انجام پایا جب افغانستان میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت تھی۔ یہ تاریخی سفر 26 اگست 1988 کو شروع ہوا۔ عبدالاحد مومند صرف خلا میں جانے والے پہلے افغان ہی نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ایک اور بڑا اعزاز بھی حاصل کیا۔ انہوں نے خلا میں قرآن پاک کی تلاوت کی، اور یوں وہ خلا میں قرآن کی تلاوت کرنے والے پہلے مسلمان بن گئے۔ یہی نہیں، انہوں نے خلا میں پشتو زبان میں گفتگو بھی کی۔ اور اس طرح پشتو زبان دنیا کی ان چند زبانوں میں شامل ہوگئی جو خلا میں بولی گئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف افغانستان بلکہ پوری مسلم دنیا اور خاص طور پر پشتون قوم کے لیے فخر کا باعث تھا۔ آج بھی عبدالاحد مومند کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے، جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ محنت، علم اور حوصلے سے کوئی بھی انسان آسمانوں کو چھو سکتا ہے۔

Use these settings →

2026-04-05

b1b0c280-f402-46af-a8a7-b46fd99c3121

ID: 99725e0f-aaf2-48b7-925a-9cdba9ca325d

Created: 2026-04-05T12:48:19.247Z

More Shares

bc2de169-6ced-4c76-830f-76b8f5e2ed1d

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتُہُ بسم اللہ الرحمن الرحیم محترم ناظرین آج جس دعا کا میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں اسے پڑھنے میں آپ کے چند سیکنڈ ہی لگیں گے مگر اس دعا پر اجر اتنا ہے کہ جیسے کوئی شخص فجر تا چاشت مسلسل چار گھنٹے ذکر الہی میں مشغول رہے حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت ان کے پاس سے تشریف لے گئے جبکہ وہ ذکر میں مشغول تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت واپس تشریف لائے تو وہ اسی حالت میں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمے تین مرتبہ کہے ہیں اگر ان کو تمہارے آج کے تمام ذکر کے مقابلے میں تولا جائے تو یہ ان پر ( میزان آخرت میں ) بھاری ہوں گے سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ترجمہ اللہ پاک ہر نقص سے پاک ہے اور اسی کی حمد ہے اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر اس کی رضا کے برابر اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر حوالہ صحیح مسلم حدیث نمبر ہے 2726 اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ مجھے اور آپ سب کو اپنے ذکر میں مشغول رکھے اور اس سبب ہماری دنیا اور آخرت بہترین فرمائے آمین یارب العالمین

"bc2de169-6ced-4c76-830f-76b8f5e2ed1d"

7ea214c6-45f3-42e9-a3af-f874f2b6d4d6

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں میں حسن نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ حسن بہت ذہین اور محنتی تھا، مگر اس میں ایک کمی تھی—وہ کبھی کبھی ڈر کی وجہ سے سچ نہیں بولتا تھا۔ اس کے ابو اکثر اسے نصیحت کرتے، “بیٹا، سچ بولنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔” ایک دن سکول میں استاد نے بچوں کو ایک اہم کام دیا۔ سب بچوں کو کہا گیا کہ وہ گھر جا کر ایک مضمون لکھیں اور اگلے دن جمع کروائیں۔ حسن نے بھی ارادہ کیا کہ وہ اچھا سا مضمون لکھے گا، مگر وہ کھیل میں مصروف ہو گیا اور کام کرنا بھول گیا۔ اگلے دن جب وہ سکول پہنچا تو اسے یاد آیا کہ اس نے کام نہیں کیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ استاد نے سب بچوں سے ان کا کام مانگا۔ حسن کے دل میں خیال آیا کہ وہ کوئی بہانہ بنا لے، جیسے کہ “میری کاپی گھر رہ گئی ہے”۔ جب استاد اس کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا، “حسن، تمہارا کام کہاں ہے؟” حسن کچھ لمحے کے لیے خاموش رہا۔ اس کے ذہن میں ابو کی بات گونجنے لگی—“سچ بولنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔” آخرکار حسن نے ہمت کی اور بولا، “سر، میں نے سچ میں اپنا کام نہیں کیا۔ میں کھیل میں مصروف ہو گیا تھا۔ یہ میری غلطی ہے۔” کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ حسن کو لگا کہ شاید استاد اسے ڈانٹیں گے یا سزا دیں گے۔ مگر استاد کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ انہوں نے کہا، “حسن، تم نے غلطی کی ہے، لیکن تم نے سچ بولا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔”

"7ea214c6-45f3-42e9-a3af-f874f2b6d4d6"

fde7e1e1-ce98-440a-8e94-769b6e1cc061

ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کے خواب بہت بڑے تھے، لیکن حالات اس کے برعکس تھے۔ گھر کی مالی حالت کمزور تھی، اور اکثر اسے یہ سننے کو ملتا کہ "تم سے کچھ نہیں ہوگا"۔ احمد کو پڑھنے کا بہت شوق تھا، مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر اداس رہتا۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ حالات کا رونا نہیں روئے گا بلکہ انہیں بدلے گا۔ اس نے پرانی کتابیں اکٹھی کیں، رات کو کم روشنی میں پڑھنا شروع کیا، اور دن میں لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کر کے کچھ پیسے جمع کرنے لگا۔ شروع میں اسے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی تھکن، کبھی لوگوں کی باتیں، اور کبھی اپنی ہی ہمت جواب دینے لگتی۔ لیکن ہر بار وہ خود سے کہتا، "اگر میں آج ہار مان گیا تو کل کبھی نہیں جیت سکوں گا۔" وقت گزرتا گیا، اور احمد کی محنت رنگ لانے لگی۔ اس نے اپنے امتحانات میں بہترین کارکردگی دکھائی اور شہر کے ایک اچھے کالج میں داخلہ حاصل کر لیا۔ گاؤں کے وہی لوگ جو اسے کمزور سمجھتے تھے، اب اس کی مثال دینے لگے۔ احمد نے ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف وسائل سے نہیں بلکہ عزم، محنت اور مسلسل کوشش سے ملتی ہے۔ اس نے سیکھ لیا تھا کہ راستہ کتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو، اگر انسان ہمت نہ ہارے تو منزل ضرور ملتی ہے۔ آخر میں احمد نے اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی تاکہ کوئی اور بچہ صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے خواب ادھورے نہ چھوڑے۔

"fde7e1e1-ce98-440a-8e94-769b6e1cc061"

← Return to Studio