Free Hindi Text to Speech

शमू और रामू अपने समझदार तोते पर बहुत गर्व करते थे

2026-02-27

शमू और रामू अपने समझदार तोते पर बहुत गर्व करते थे। उनका तोता पूरे गाँव में मशहूर हो गया।

ID: 7e2335aa-cc87-47fe-a7d1-bf69e1783520

Created: 2026-02-27T11:22:43.526Z

More Shares

74b02557-15a1-432f-b873-c0fd9c4b4eb8

John نے غصے میں کہا۔ تو تم کپتان بنو۔ Rick نے کہا۔ بنوں گا۔ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ Phil نے کہا۔ بند کرو۔ دونوں نے Phil کی طرف دیکھا۔ Phil نے کہا۔ ہم سب مر جائیں گے۔ لیکن اس سے پہلے ہم ایک دوسرے کو مار ڈالیں گے۔ Phil نے کہا۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ چاہے ہم ایک دوسرے سے نفرت ہی کیوں نہ کریں۔ اس دن سے جھگڑے تو کم ہو گئے۔ لیکن نفرت ختم نہیں ہوئی۔ سب سے بڑی جنگ تھی۔ کھانے اور پانی کی۔ John نے پہلے دن حساب لگایا تھا۔ ان کے پاس تھا۔ 20 ڈبے۔ 60 بسکٹ۔ اور پانی کے تین ڈرم۔ یہ چار آدمیوں کے لیے کتنا تھا؟ اگر وہ معمول کے مطابق کھاتے تو زیادہ سے زیادہ 15 دن میں ختم ہوجاتے ۔ لیکن انہیں اگلی منزل معلوم نہیں تھی اور تب تک انہیں زندہ رہنا تھا۔ John نے اصول بنایا۔ ہر آدمی کے لیے دن میں دو بسکٹ۔ پانی کا ایک کپ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دو بسکٹ بہت کم ہیں۔ لیکن یہ بھی زیادہ تھے۔ کیونکہ 119 دن کے لیے دو بسکٹ بھی کافی نہیں تھے۔ پہلا مہینہ گزرا۔ بسکٹ ختم ہونے لگے۔ John نے کہا۔ اب ایک بسکٹ ملے گا ۔ دوسرا مہینہ گزرا۔ John نے کہا۔ آدھا بسکٹ ہوگا ۔ تیسرا مہینہ گزرا۔ بسکٹ مکمل ختم۔ اب کیا کھائیں؟ انہوں نے وہ سب کھایا جو کشتی میں تھا۔ گلو۔ جو کشتی کے جوڑ میں لگا تھا۔ اسے چھری سے کھرچ کر کھایا۔ چکنائی۔ انجن کی چکنائی۔ اسے چمچ سے نکال کر کھایا۔ جوتوں کے تلوے تک ابال کر کھا لیے ۔ کتابوں کے کور۔ انہیں پانی میں بھگو کر کھائے لیکن پانی اس سے بھی بڑا مسئلہ تھا۔ پانی کے تین ڈرم۔ John نے حساب لگایا۔ ہر آدمی کو دن میں ایک گلاس۔ لیکن چالیس دن بعد پانی ختم ہو گیا۔ اب پانی کہاں سے لائیں؟ جب بھی بارش ہوتی، چاروں اپنے کپڑے پھیلا دیتے۔ کپڑوں سے پانی ٹپکتا۔ وہ اسے اپنے برتنوں میں جمع کرتے۔ ایک بار 40 دن تک بارش نہیں ہوئی۔ 40 دن۔ چاروں کی زبان سوج گئی۔ ہونٹ پھٹ گئے۔ آنکھیں دھنس گئیں۔ Jim کی آواز نکلنا بند ہو گئی۔ Phil کھانس رہا تھا۔ Rick کی جلد سوکھ کر اترنے لگی۔ John کو چکر آنے لگے۔ وہ مر رہے تھے۔ اور پھر اچانک بارش شروع ہوئی۔ چاروں نے اپنے کپڑے پھیلائے۔ اپنے منہ کھولے۔ پانی پیا۔ وہ دن تھا جب چاروں نے محسوس کیا کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔ لیکن کھانے کو اب بھی کچھ نہیں تھا۔

"74b02557-15a1-432f-b873-c0fd9c4b4eb8"

← Return to Studio