Free English Text to Speech

ec20b0a0-3d3b-4a36-aec1-5497a4517572

agar dard ke sath bukhar ya chehre par soojish ho, to ye infection phelne ki nishani hai. Aise mein kabhi bhi dard wali jagah par garam kapre se sikayi na karein, kyunki garmi infection ko mazeed phelati hai. Hamesha thandi sikayi (cold compress) ka istemal karein.

Use these settings →

2026-03-24

ec20b0a0-3d3b-4a36-aec1-5497a4517572

ID: 78cdadda-d8b6-4b53-bb6a-9adae8e1426f

Created: 2026-03-24T08:33:22.085Z

More Shares

24e56c58-7b29-44bf-9f43-ef7b3aec5d1b

تو دوستو، ارنسٹ کسی طرح واٹر مین سے چھٹکارا پا لیتا ہے اوروہ باہر نکلتا ہے تاکہ فیلَم کو تلاش کرے، جو اسے مل بھی جاتا ہے، اور ارنسٹ کو شک ہونے لگتا ہے۔ یہ بھی سچ تھا کہ وہی شخص تھا جس نے سامان چوری کیا تھا، دوستو، اور وہ اس سے بڑی آسانی سے کھا پیا اور پیا، تو…ارنسٹ فیلَم کو بندوق کی نوک پر ڈرا دیتا ہے اور اسے واٹر مین کے پاس لے جانے لگتا ہے تاکہ بتا سکے کہ سامان چوری کرنے والا فیلَم تھا، نہ کہ میں۔ آگے بڑھتے ہوئے،دونوں بہت تھک چکے تھے۔ ارنسٹ سب سے زیادہ تھکا ہوا تھا اور ساتھ ہی اس کا پانی بھی ختم ہو چکا تھا، اسی لیے دوستو، فیلَم ارنسٹ کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاس نے سپلائی سے کچھ شراب پی تھی اور کچھ باقی تھی۔ وہ کہتا ہے، "اگر تم میرے ساتھ متفق ہو تو ہم دونوں باقی شراب بانٹ لیں اور پی لیں۔ زیادہ سے زیادہ واٹر مین کیا کرے گا؟ وہ مجھے مار دے گا، لیکن اگر ہم نہ پئیں تو ہم یقیناً پیاس کی وجہ سے مر جائیں گےاس پر ارنسٹ مان جاتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ محسوس کرتا ہے، فیلَم خود ارنسٹ کو رسیوں سے آزاد کر دیتا ہے اور حملہ کر دیتا ہے۔ غریب ارنسٹ پہلے ہی تھکا ہوا تھا اور

"24e56c58-7b29-44bf-9f43-ef7b3aec5d1b"

20c93adf-e0e9-4714-afe3-15e9d7f74c09

چاروں کا نام صاف کر دیا گیا۔ اخباروں نے معافی مانگی۔ ٹی وی چینلز نے نئی کہانیاں چلائیں۔ معجزہ سچ نکلا۔ لیکن چاروں کے لیے یہ سب بے معنی تھا۔ انہوں نے جو سہا تھا، وہ کسی معافی سے کم نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے جو کھویا تھا، وہ کسی خبر سے واپس نہیں آتا تھا۔ John Glennie آج بھی زندہ ہیں۔ وہ کبھی سمندر نہیں گئے۔ Rick Hellriegel بھی زندہ ہیں۔ وہ اپنے سر کا نشان چھپاتے ہیں جو اس رات لگا تھا۔ Phil Hofman بھی زندہ ہیں۔ وہ آج بھی خاموش ہیں۔ Jim O'Keefe بھی زندہ ہیں۔ وہ آج بھی مسکراتے ہیں۔ چاروں نے کبھی دوبارہ ایک ساتھ سمندر کا سفر نہیں کیا۔ وہ کبھی ایک دوسرے سے ملے بھی تو مختصر۔ لیکن جب ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ جو 119 دن ایک ساتھ جہنم میں گزرے ہوں، وہ کبھی بھی اجنبی نہیں ہو سکتے۔ آج بھی جب لوگ Abandoned کی کہانی سنتے ہیں تو دو حصوں میں بٹ جاتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں۔ یہ معجزہ تھا۔ کچھ کہتے ہیں۔ یہ بقا کی سب سے بڑی کہانی ہے۔ کچھ کہتے ہیں۔ یہ انسان کی ضد کی کہانی ہے۔ لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں۔ یہ کہانی کسی معجزے کی نہیں۔ یہ کہانی کسی ڈرامے کی نہیں۔ یہ کہانی ہے چار آدمیوں کی۔ چار عام آدمیوں کی۔ جن کے پاس نہ کوئی سپر پاور تھی، نہ کوئی خاص ٹریننگ، نہ کوئی جدید ٹیکنالوجی۔ ان کے پاس صرف ایک چیز تھی۔ زندہ رہنے کی خواہش۔ ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے باوجود۔ ایک دوسرے کو کوسنے کے باوجود۔ ایک دوسرے پر چڑھنے کے باوجود۔ وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر الگ ہو گئے تو مر جائیں گے۔ اس لیے وہ ساتھ رہے۔ اور ساتھ زندہ رہے۔ 119 دن۔ ایک ڈبل بیڈ کے برابر جگہ۔ کوئی امید نہیں۔ کوئی مدد نہیں۔ کوئی راستہ نہیں۔ لیکن وہ زندہ رہے۔ کیونکہ انہوں نے ہار نہیں مانی۔ امید آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہوگی ؟ اگر ویڈیو پسند آئی ہو تو ویڈیو کو لائک کریں۔ اور کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں اس طرح کی ویڈیوز دیکھنے کے لئے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اور بیل آئیکن دبا دیں تاکہ اگلی کہانی آپ تک سب سے پہلے پہنچے۔ ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں۔ ایک اور حیرت انگیز کہانی کے ساتھ ۔ جو آپ کا دماغ گھما دے گی۔ تب تک کے لیے۔ خدا حافظ۔

"20c93adf-e0e9-4714-afe3-15e9d7f74c09"

← Return to Studio