کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں۔ اس پر میں اس لئے ک

کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں۔ اس پر میں اس لئے کچھ نہیں کہوں گا کہ 1978 میں لکھی جانے والی اس کتاب نے آج 1989 تک بھٹو کے تجزیئے اور بصیرت پر صداقت کی کئی مہریں مثبت کر دی ہیں۔ بھٹو مرحوم نے معروضیت کو پیش نظر رکھا ہے۔ اپنی حکومت کی خامیاں بڑی دلیری سے پیش کی ہیں۔ خود احتسابی کا اظہار بے باکی سے ملتا ہے اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے وہ ایک عظیم رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سچے محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔ یہ کتاب سچے واقعات اور کرداروں کا دلچسپ لرزہ خیز اظہار کرتی ہے۔ جب بھٹو عوامی اور فلسفیانہ دانش کے امتزاج سے طنز کرتے ہیں تو ان کی تحریر کا حسن نکھر کر مؤثر ہو کر سامنے آتا ہے۔ بھٹو کی طنز۔ بڑی طاقتور ہے۔ کیونکہ یہ طنز حقائق پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ایک بڑے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت میں نے پوری کوشش کی ہے کہ بھٹو کا طرزِ اسلوب بھی میں جس حد تک ممکن ہو سکے اردو میں منتقل کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ بعض ایسے امور جو بعد میں سامنے آئے ان کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ تاکہ قاری اس کتاب کے آئینے میں پوری تصویر دیکھ سکے۔ اس میں مجھے کس حد تک کامیابی ہوئی ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والے ہی کر سکیں گے!!

More Urdu Voice Samples

chirp3-hd:Kore

"اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔۔" ایک عہدِ تاریک کا آئینہ ہے ۔ جس میں ایک دور اپنی تمام تر ب

"اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔۔" ایک عہدِ تاریک کا آئینہ ہے ۔ جس میں ایک دور اپنی تمام تر بھیانک شبہیوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ہم

chirp3-hd:Kore

"اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔۔" ایک عہدِ تاریک کا آئینہ ہے ۔ جس میں ایک دور اپنی تمام تر ب

"اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔۔" ایک عہدِ تاریک کا آئینہ ہے ۔ جس میں ایک دور اپنی تمام تر بھیانک شبہیوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ہم

chirp3-hd:Kore

تمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لئے پاکستانی عوام ج

تمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لئے پاکستانی عوام جدوجہد کرتے اور متجسس رہے۔ فوٹو سٹیٹ

chirp3-hd:Kore

تمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لئے پاکستانی عوام ج

تمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لئے پاکستانی عوام جدوجہد کرتے اور متجسس رہے۔ فوٹو سٹیٹ

chirp3-hd:Kore

کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں۔ اس پر میں اس لئے ک

کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں۔ اس پر میں اس لئے کچھ نہیں کہوں گا کہ 1978 میں لکھی جا

chirp3-hd:Kore

ججوں پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کرنا مقصود تھا۔ بھٹو مرحوم نے م

ججوں پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کرنا مقصود تھا۔ بھٹو مرحوم نے مارشل لاء حکومت کی طرف سے شائع، جاری

← Return to Studio