Free Hindi Text to Speech

प्रवेश प्रारम्भ, प्रवेश प्रारम्भ, प्रवेश प्रारम्भ

2026-04-10

प्रवेश प्रारम्भ, प्रवेश प्रारम्भ, प्रवेश प्रारम्भ। श्री ईश्वर चन्द्र भगवान दास वैश्य लघु माध्यमिक विद्यालय, सोनडीटा में अपने नौनिहालों का आज ही प्रवेश कराएँ। घर से निकले मुन्ने-मुनिया, शिक्षा की ओर बढ़ें। जन-जन की यही पुकार है — शिक्षा तो सबका अधिकार है। विद्यालय की विशेषताएँ: स्वास्थ्य, शिक्षा और संस्कार का उत्तम समन्वय। कमजोर छात्रों के लिए गणित और अंग्रेज़ी की निःशुल्क अतिरिक्त कक्षाएँ — प्रतिदिन एक घंटा। आइए, अपने बच्चों का उज्ज्वल भविष्य बनाएं। आज ही संपर्क करें।

ID: 6dd54ac8-f832-47ba-be9f-71fcbc854d36

Created: 2026-04-10T05:12:50.907Z

More Shares

70a76329-7103-4ada-92ab-3e7e3b353129

"تم پرندوں سے دل بہلایا کرو۔ سپاہ گری اس آدمی کے لیے ایک خطر ناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو ۔ یہ الفاظ اپریل ۱۱۷۵ میں صلاح الدین ایوبی نے اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے۔ اُن دونوں نے صلیبیوں کو در پردہ مدد اور ذر و جواہرات کا لالچ دیا اور صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی تھی۔صلیبی یہی چاہتے تھے۔ انہوں نے حملہ کیا۔ الصالح اور سیف الدین نے ان کی مدد کی صلاح الدین ایوبی نے ان سب کو شکست دی ۔ امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا۔ اس کی ذاتی خیمہ گاہ سے رنگ برنگے پرندے ، حسین اور جوان رقاصائیں اور گانے والیاں ، ساز اور سازندے اور شراب کے مٹکے برآمد ہوئے ۔ صلاح الدین ایوبی نے پرندوں کو ، ناچنے گانے والیوں اور اُن کے سازندوں کو رہا کر دیا اور امیر سیف الدین کو اس مضمون کا خط لکھا : تم دونوں نے کفار کی پشت پناہی کرکے اُن کے ہاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوشش کی مگر یہ نہ سوچا کہ تمہاری یہ سازش عالم اسلام کا بھی نام و نشان مٹا سکتی ہے۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے تھے تو مجھے قتل کرا دیا ہوتا۔ تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کرا چکے ہو۔ دونوں ناکام رہے ۔ اب ایک اور کوشش کر دیکھو ۔ ہو سکتا ہے کامیاب ہو جاؤ۔ اگر تم مجھے یہ یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ہو جائے تو اسلام اور اور زیادہ زیا سر بلند ہوگا تو ربّ کعبہ کی قسم ، میں تمہاری تلوار سے اپنا سر کٹواؤں گا اور تمہارے قدموں میں رکھ دینے کی وصیت کروں گا۔ میں تمہیں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ اپنا ماضی دیکھو ۔ شاہ فرنیک اور ریمانڈ جیسے اسلام دشمن صلیبی تمہارے دوست صرف اس لیے بنے کہ تم نے انہیں مسمانوں کے خلاف میدان میں اترنے کی شہہ اور مدد دی تھی ۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو ان کا اگلا شکار تم ہوتے اور اس کے بعد اُن کا یہ خواب بھی پورا ہو جاتا کہ اسلام صفحہ ہستی سے مٹ جائے ۔ تم جنگجو قوم کے فرد ہو ۔ فن سپاہ گری تمہارا قومی پیشہ ہے۔ ہر سلطان اللہ کا سپاہی ہے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ہے ۔ تم پرندوں سے ہی دل بہلایا کرو ۔ سپاہ گری اس آدمی کے لیے ایک خطر ناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہو جاؤ ۔

"70a76329-7103-4ada-92ab-3e7e3b353129"

f9da12e0-d46e-449a-9ae1-ebc408aa074d

ایک مصروف شہر میں حارث نام کا ایک کامیاب بزنس مین رہتا تھا۔ وہ اپنے کام میں اتنا مصروف رہتا تھا کہ اسے اپنے علاوہ کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت، مہنگی گاڑی اور ایک بڑا گھر سب کچھ تھا، اور لوگ اس کی کامیابی کی مثال دیتے تھے۔ مگر ان سب کے باوجود، حارث اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں رکھتا تھا۔ وہ روزانہ فاسٹ فوڈ کھاتا، گھنٹوں کرسی پر بیٹھ کر کام کرتا، رات دیر تک جاگتا اور ورزش کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے اور صحت بعد میں بھی سنبھالی جا سکتی ہے۔ وقت گزرتا گیا، اور اس کی یہ عادتیں آہستہ آہستہ اس کی صحت کو خراب کرنے لگیں۔ ایک دن اچانک وہ شدید کمزوری اور درد محسوس کرتے ہوئے گر پڑا۔ اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اس کی بیماری کی اصل وجہ اس کا غیر صحت مند طرزِ زندگی ہے۔ ڈاکٹر نے سختی سے کہا کہ اگر اس نے اپنی عادات نہ بدلیں تو اس کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یہ سن کر حارث کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر صحت ہی نہ ہو تو یہ ساری دولت کسی کام کی نہیں۔ اسی لمحے اس نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے روزانہ صبح جلدی اٹھنا شروع کیا، پارک میں چہل قدمی کرنے لگا، متوازن اور صحت مند غذا کھانے لگا اور وقت پر سونے لگا۔ شروع میں یہ سب اس کے لیے مشکل تھا، مگر وہ ہمت نہیں ہارا۔ چند ہی مہینوں میں اس کی صحت بہتر ہونے لگی۔ اب وہ خود کو پہلے سے زیادہ توانائی سے بھرپور، ہلکا پھلکا اور خوش محسوس کرنے لگا۔ اس کی سوچ بھی مثبت ہو گئی اور اس کا کام بھی پہلے سے بہتر ہونے لگا۔ حارث اب یہ سمجھ چکا تھا کہ اصل دولت پیسہ نہیں بلکہ صحت ہے، اور اگر انسان صحت مند ہو تو وہ ہر کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ سبق: ہمیں اپنی مصروف زندگی میں سے وقت نکال کر اپنی صحت کا ضرور خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ صحت مند زندگی ہی اصل کامیابی ہے۔

"f9da12e0-d46e-449a-9ae1-ebc408aa074d"

← Return to Studio