"تم پرندوں سے دل بہلایا کرو۔ سپاہ گری اس آدمی کے لیے ایک خطر ناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو ۔ یہ الفاظ اپریل ۱۱۷۵ میں صلاح الدین ایوبی نے اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے۔ اُن دونوں نے صلیبیوں کو در پردہ مدد اور ذر و جواہرات کا لالچ دیا اور صلاح الدین ایوبی کو شکست دینے کی سازش کی تھی۔صلیبی یہی چاہتے تھے۔ انہوں نے حملہ کیا۔ الصالح اور سیف الدین نے ان کی مدد کی صلاح الدین ایوبی نے ان سب کو شکست دی ۔ امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگا۔ اس کی ذاتی خیمہ گاہ سے رنگ برنگے پرندے ، حسین اور جوان رقاصائیں اور گانے والیاں ، ساز اور سازندے اور شراب کے مٹکے برآمد ہوئے ۔ صلاح الدین ایوبی نے پرندوں کو ، ناچنے گانے والیوں اور اُن کے سازندوں کو رہا کر دیا اور امیر سیف الدین کو اس مضمون کا خط لکھا : تم دونوں نے کفار کی پشت پناہی کرکے اُن کے ہاتھوں میرا نام و نشان مٹانے کی ناپاک کوشش کی مگر یہ نہ سوچا کہ تمہاری یہ سازش عالم اسلام کا بھی نام و نشان مٹا سکتی ہے۔ تم اگر مجھ سے حسد کرتے تھے تو مجھے قتل کرا دیا ہوتا۔ تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کرا چکے ہو۔ دونوں ناکام رہے ۔ اب ایک اور کوشش کر دیکھو ۔ ہو سکتا ہے کامیاب ہو جاؤ۔ اگر تم مجھے یہ یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ہو جائے تو اسلام اور اور زیادہ زیا سر بلند ہوگا تو ربّ کعبہ کی قسم ، میں تمہاری تلوار سے اپنا سر کٹواؤں گا اور تمہارے قدموں میں رکھ دینے کی وصیت کروں گا۔ میں تمہیں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ اپنا ماضی دیکھو ۔ شاہ فرنیک اور ریمانڈ جیسے اسلام دشمن صلیبی تمہارے دوست صرف اس لیے بنے کہ تم نے انہیں مسمانوں کے خلاف میدان میں اترنے کی شہہ اور مدد دی تھی ۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو ان کا اگلا شکار تم ہوتے اور اس کے بعد اُن کا یہ خواب بھی پورا ہو جاتا کہ اسلام صفحہ ہستی سے مٹ جائے ۔ تم جنگجو قوم کے فرد ہو ۔ فن سپاہ گری تمہارا قومی پیشہ ہے۔ ہر سلطان اللہ کا سپاہی ہے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ہے ۔ تم پرندوں سے ہی دل بہلایا کرو ۔ سپاہ گری اس آدمی کے لیے ایک خطر ناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہو جاؤ ۔
Use these settings →2026-03-27
70a76329-7103-4ada-92ab-3e7e3b353129
ID: 8ab853e7-5418-4958-94e1-e9b48d9fa1fe
Created: 2026-03-27T05:25:28.836Z