Free Urdu Text to Speech

ہیڈ لائن:قلات میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں مقرر، ٹرانسپورٹ کے نئے کرایہ نامے ک

2026-04-06

ہیڈ لائن:قلات میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں مقرر، ٹرانسپورٹ کے نئے کرایہ نامے کا بھی اعلان قلات میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لینے، نئی قیمتوں کے تعین اور ٹرانسپورٹ کے نئے کرایہ نامے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ، اے ڈی سی شاہنواز بلوچ، تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی، پی اے ایس پی حاجی نسیم شاہوانی اور ٹریفک سارجنٹ سمیع اللہ سمیت قلات اور خالق آباد کے ٹرانسپورٹرز یونین کے نمائندوں اور پیٹرول پمپ مالکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نئی قیمتیں مقرر کر دی گئیں، جس کے مطابق قلات میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 255 روپے فی لیٹر جبکہ خالق آباد میں 265 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر قلات شہر سے دیگر شہروں کو جانے والی گاڑیوں کے کرایوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور نیا کرایہ نامہ مقرر کر دیا گیا، جس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان اور ٹرانسپورٹرز مقرر کردہ نرخ ناموں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اور کرایوں کی نگرانی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو روزانہ پیٹرول پمپوں کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں پمپ سیل کرنا اور مقدمات درج کرنا بھی شامل ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ رپورٹ: نائب اسرار مینگل

ID: 66864146-6b2c-465a-b8a3-bbb6f3074382

Created: 2026-04-06T18:02:29.764Z

More Shares

db716223-7398-46ae-8294-82fd55405cd2

Joe Pichler, He was a child star. Most audiences knew him from the Beethoven film franchise. By the age of eleven, Joe Pichler had already appeared in four Hollywood productions. He was young, recognizable, and working steadily in an industry that rarely gave children that kind of footing. His family lived in Bremerton, Washington. By all accounts, his life was intact. Joe was not a troubled child in any public sense. There were no reports of conflict at home. No known history of crisis. He had simply grown up on camera, and then, like most child actors, quietly aged out of the parts that had made him known. He was seventeen years old when he disappeared. The transition from childhood fame to ordinary teenage life was a familiar pressure. But nothing in his immediate circumstances pointed to what was about to happen. On January 5th, 2006, Joe left his home. He told no one where he was going. He did not say goodbye. Two days later, his car was found near a bridge over the Puget Sound. His shoes were inside. His wallet was inside. His keys were still in the ignition. Joe was not. Search and rescue teams combed the water. Divers were deployed. No body was recovered. No note was found anywhere not in the car, not at home, not with anyone who knew him. Investigators could not determine whether the disappearance was voluntary or not. The absence of a body made it impossible to rule anything in or out definitively. His family maintained from the beginning that Joe would not simply walk away. They spoke publicly about their belief that something had happened to him. Investigators and the family both acknowledged the bridge's proximity as significant. But without remains, without a note, without a single witness, the case could not be closed and could not be solved. Joe Pichler has never been found.

"db716223-7398-46ae-8294-82fd55405cd2"

138166cd-c871-48d8-b21c-2810016d8d64

لوگوں تک شراب یا کھانے پینے کی چیزیں پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ وہ سب چیزیں شہر سے اپنے گدھے پر لاد کر لاتا ہے اور ان واٹر مینوں کو دیتا ہے۔ اسی واٹر مین کے ساتھ ایک آدمی میکس بھی شامل ہے، جس سے ارنسٹ تھوڑا بہتر طریقے سے واقف ہوتا ہے۔ارنسٹ میکس سے کہتا ہے، "دیکھو بھائی، تم نے یہاں بڑی مشین لگانے کا کام شروع کر دیا ہے۔"میرا کھیت یہاں سے تھوڑا فاصلے پر ہے، جہاں پہلے پانی آتا تھا۔ لیکن تم نے جو بڑی مشین لگائی ہے، اس کی وجہ سے اب میرے کھیت کو ملنے والا تھوڑا سا پانی بھی ختم ہو گیا ہے۔ تم اپنی بڑی مشینوں کی لائن کو کسی اور جگہ نہیں لے جا سکتے۔میکس کہتا ہے، "یہ میرا کام نہیں ہے۔ اگر بات کرنی ہے تو تم ہمارے باس کے پاس جا کر کرو۔" ارنسٹ جانتا ہے کہ باس اسے سننے والا نہیں ہے،تو وہ غریب آدمی تھوڑے مایوس ہو کر جیرووم کے ساتھ گھر کی طرف نکلتا ہے، لیکن جب کسی کی قسمت خراب ہو تو برا وقت دیر نہیں لگتا، یہی حال ارنسٹ کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ راستے میں اس کے گدھے کا پاؤں زخمی ہو جاتا ہے۔

"138166cd-c871-48d8-b21c-2810016d8d64"

4fe1615b-6689-41b2-b098-ebcd15accbe7

ڈرامہ سیریل "معمہ" کی کہانی ایک خوشحال مگر پراسرار گھرانے سے شروع ہوتی ہے جہاں حارث ایک کامیاب بزنس مین ہے اور اس کی نئی نئی شادی عائشہ سے ہوتی ہے۔ عائشہ ایک سادہ، معصوم اور سمجھدار لڑکی ہے جو شادی کے بعد اپنے سسرال آتی ہے تو ابتدا میں سب کچھ نارمل لگتا ہے، مگر آہستہ آہستہ اسے اس گھر کا ماحول عجیب محسوس ہونے لگتا ہے۔ خاص طور پر حارث کی بہن ماہ نور کا رویہ کافی سرد اور پراسرار ہوتا ہے، جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہو۔ گھر میں ایک کمرہ ایسا بھی ہوتا ہے جو ہمیشہ بند رہتا ہے اور کسی کو اس کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہوتی، یہی چیز عائشہ کے شک کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ چند دن گزرنے کے بعد عائشہ کو معلوم ہوتا ہے کہ حارث کی اس سے پہلے بھی منگنی ہو چکی تھی ایک لڑکی زینب سے، جو اچانک پراسرار حالات میں مر گئی تھی۔ گھر والے اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے ہیں اور یہی بات عائشہ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر سچ کیا ہے۔ عائشہ چھپ کر اس معاملے کی تحقیق شروع کرتی ہے اور اسے کچھ پرانی تصاویر اور خطوط ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ زینب کی موت ایک حادثہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کوئی گہرا راز چھپا ہوا ہے۔ اسی دوران عائشہ کی ملاقات عمر نامی ایک صحافی سے ہوتی ہے جو پہلے بھی زینب کے کیس پر کام کر چکا ہوتا ہے۔ دونوں مل کر حقیقت تک پہنچنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جیسے جیسے وہ تحقیقات آگے بڑھاتے ہیں، ویسے ویسے خطرات بھی بڑھنے لگتے ہیں۔ حارث کا رویہ بھی بدلنے لگتا ہے اور وہ عائشہ کو بار بار منع کرتا ہے کہ وہ ماضی کو نہ کریدے، لیکن عائشہ سچ جاننے کے لیے پرعزم رہتی ہے۔ ایک دن عائشہ ہمت کر کے اس بند کمرے کا دروازہ کھول لیتی ہے جہاں اسے زینب کی ڈائری ملتی ہے۔ اس ڈائری میں زینب نے اپنی زندگی کے آخری دنوں کا ذکر کیا ہوتا ہے اور لکھا ہوتا ہے کہ وہ اس گھر کے ایک بڑے راز کے قریب پہنچ چکی تھی اور اسے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ یہ پڑھ کر عائشہ کو یقین ہو جاتا ہے کہ زینب کو قتل کیا گیا تھا۔

"4fe1615b-6689-41b2-b098-ebcd15accbe7"

← Return to Studio