alloy
Use these settings →2026-03-02
عائشہ اکیلی اپنی گاڑی پر سیر کے لیے جا رہی تھی… دھوپ آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی… اور شام ہونے والی تھی… راستہ سنسان جنگل کے بیچ سے گزرتا تھا… اچانک… اس کے سامنے ایک بڑا ہوا درخت کا تنا گرا ہوا تھا… راستہ بند تھا… اس نے گاڑی روک دی… اور سوچا… شاید کوئی دوسرا راستہ ہوگا… اس نے جی پی ایس دیکھا… اور بائیں طرف مڑ گئی… گاڑی آہستہ آہستہ ایک نئے راستے پر چلنے لگی… جنگل ختم ہوا… اور سامنے ایک چھوٹا سا شہر نظر آیا… پرانے گھر… ٹوٹے ہوئے اسٹریٹ لائٹس… خاموشی… یہ جگہ عجیب لگ رہی تھی… تب اچانک… ایک آدمی سڑک کے کنارے کھڑا تھا… ہاتھ ہلا کر اسے روک رہا تھا… عائشہ نے گاڑی روکی… اور پوچھا… یہ کون سا شہر ہے…؟ آدمی نے دھیمی آواز میں کہا… “یہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں جاتا…” عائشہ کا دل تیز دھڑکنے لگا… “تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا… رات ہونے سے پہلے…” “ورنہ تم پھنس جاؤ گی…” عائشہ ڈر گئی… لیکن اس نے کہا… “نہیں… مجھے جانا ہے…” اور اس نے گاڑی آگے بڑھا دی… پیچھے سے آدمی چلایا… “مت جاؤ!!! ابھی بھی وقت ہے!!!” لیکن عائشہ نہیں رکی… سڑک گول گول گھومتی رہی… وہی گھر… وہی لائٹس… وہی خاموشی… کچھ دیر بعد… وہ پھر اسی جگہ آ گئی… وہی آدمی… وہی سڑک… اس بار… وہ مسکرا رہا تھا… اور بولا… “اب بہت دیر ہو چکی ہے…” اندھیرا چھا گیا… اور عائشہ کبھی واپس نہیں ملی…
ID: 432a9a3f-9e53-4107-8fe4-24feb9f82cd4
Created: 2026-03-02T14:38:20.821Z