Free English Text to Speech

4b05fecd-4d44-4b7d-a5e2-69f74395144f

Homeopathic medicines Pakistan mein Drug Regulatory Authority of Pakistan (DRAP) ke under aati hain. Agar aap khud medicine prepare kar rahe hain to: Manufacturing License (Homeopathic) Qualified Homeopathic practitioner / pharmacist ka hona Proper lab / manufacturing setup Product registration Agar aap khud manufacture nahi karte aur kisi registered company ki product bech rahe hain, to unki valid registration zaroor check karein.

Use these settings →

2026-03-24

4b05fecd-4d44-4b7d-a5e2-69f74395144f

ID: 409b3596-8f31-4427-b739-26902b403cfd

Created: 2026-03-24T08:18:39.344Z

More Shares

3cf0d397-29a2-4b77-8076-38303ff4489e

اس کے ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی مانند تھا۔ ناجی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا۔ " صلاح الدین ایوبی پر تمہارے جسمانی حسن کا شاید اثر نہ ہو ۔ اپنی زبان استعمال کرنا۔ وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمہیں پڑھا رہا ہوں اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اُس کے پاس جا کہ اُس کی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ہے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو غائب ہو جاتا ہے ۔ اُسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کر لو گی ۔ اسی سر زمین میں قلوپطرہ نے سیزر جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پگھلا کر مصر کی ریت میں بہا دیا تھا ۔ قلوپطرہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی۔ میں نے تمہیں جو سبق دیئے ہیں وہ قلوپطرہ کی چالیں تھیں ۔ عورت کی یہ چالیں کبھی ناکام نہیں ہو سکتیں۔ ذوکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سن رہی تھی ۔ مصر کی ریت نے ایک اور قلو پطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا۔ مصر کی تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی تھی۔ سورج غروب ہو گیا تو مشعلیں جل اٹھیں ۔ صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ اُس کے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے اُس کے اُن محافظوں کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتخب کیے تھے ۔ اسی دستے میں سے اُس نے دس محافظ شام سے پہلے ہی یہاں لاکر صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کر دیئے تھے۔ سازوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائی اور صحرا " امیر مصر صلاح الدین ایوبی زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگا۔ ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا " آپ کے جاں نثار ، عظمت اسلام کے پاسبان آپ کو بسر و چشم خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُن کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھئے ۔ آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے اور خوشامد کے لیے اُسے جتنے الفاظ یاد آئے اُس نے کہہ ڈالے ۔ جونہی صلاح الدین ایوبی اپنی شاہانہ نشست پر بیٹھا ، سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوؤں کی آوازیں سنائی دیں۔ گھوڑے جب منشعلوں کی روشنی میں آئے تو سب نے دیکھا کہ چار گھوڑے دائیں سے اور چار بائیں سے دوڑے آرہے تھے ۔ سب پر ایک ایک سوار تھا ۔ اُن کے پاس ہتھیار نہیں تھے ۔ وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے ۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ ٹکرا جائیں گے ۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کریں گے ۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو دونوں فریقوں کے سوار رکابوں میں پاؤں جما کر کھڑے ہو گئے

"3cf0d397-29a2-4b77-8076-38303ff4489e"

← Return to Studio