Free English Text to Speech

f5e9e4c8-95de-47cd-a91d-dbd7161edb15

nuskho ki jo aapke dant ke dard ko 5 se 10 minute mein kam kar sakte hain. Hum ye bhi janenge ki dant mein dard hota kyun hai aur wo kaun si galtiyan hain jo hum dard ke dauran karte hain. Video ko aakhir tak dekhiye ga kyunki aakhir mein main aapko ek aisi tip bataunga jo dard ko dobara hone se rok sakti hai.

Use these settings →

2026-03-24

f5e9e4c8-95de-47cd-a91d-dbd7161edb15

ID: fa2d47d0-179d-4fb2-9e8f-c935e8e5338c

Created: 2026-03-24T09:02:28.367Z

More Shares

4cef4e0d-4455-49b4-a0e9-d391aa0a3802

कहानी है एक ऐसे खानाबदोश यानि नोमैड की जिसके पास सर छुपाने को छत नहीं थी लेकिन जिसके सीने में एक ऐसा दिल धड़कता था जिसने दुनिया का नक्शा बदल दिया ये दास्तान है अर्थोगुल गाज़ी की वो शख्स जो ना बादशाह था ना सुल्तान लेकिन उसने एक ऐसी सल्तनत का बीज बोया जो छः सौ साल तक तीन बररे आज़मों पर साया फगन रही ये बारह सौ की दहाई थी चंगेज खान की मंगोल फौजें एशिया से एक तूफान की तरह उठीं थी और जो भी इनके सामने आता वो दिनके की तरह बिखर जाता बड़े बड़े शहर राख का ढेर बन चुके थे बस्ती एशिया यानि खुरासान से एक तुर्क कबीला काई कबीला अपनी जान बचाकर पश्चिम की तरफ हिजरत कर रहा था उनके सरदार सुलेमान शाह थे सफर बहुत कठिन था भूख, प्यास, बीमारियां और दुश्मनों का खौफ जब ये काफला दरियाए फरात उबूर कर रहा था तो एक अलनामक हादसा हुआ सरदार सुलेमान शाह दरिया में डूबकर जान वहां खो गए कबीला सोक में डूब गया यहाँ कबीला दो हिस्सों में बट गया ज्यादातर लोग वापस लोटना चाहते थे लेकिन सुलेमान शाह का छोटा बेटा अर्थोगुल आगे जाना चाहता था अर्थोगुल ने अपनी मां हाइमा अना और सिर्फ 400 खेमों यानि खालदानों के साथ एक अनजानी मंजिल की तरफ सफर जारी रखने का फैसला किया ये 400 लोग ही वो चिंगारी थे जिससे सल्तनत ए उस्मानिया की आग भड़कनी थी अर्थोगुल अपने मुख्तसिर काफले के साथ अनातोलिया यानि मौजूदा तुर्की के पहाड़ों में भटक रहा था उसे एक ऐसी ज़मीन की तलाश थी जहां उसके लोग सुकून से रह सकें एक दिन वो एक पहाड़ी चोटी पर खड़े थे कि नीचे मैदान में जंग का मंजर देखा दो फौजें आपस में लड़ रही थी एक तरफ मंगोलों का ठाहटे मारता समंदर था اور دوسری طرف سلجوقی سلطنت کی مُدھھی پر فوج

"4cef4e0d-4455-49b4-a0e9-d391aa0a3802"

32ef5bad-d33f-4b57-b9b3-035cf5e55aa9

یک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دکان دار “حسن چاچا” کی دکان بہت مشہور تھی۔ ان کی دکان میں کھانے پینے کی چیزیں، کھلونے اور سکول کا سامان ملتا تھا۔ بچے روزانہ ان کی دکان پر آتے اور خوشی سے چیزیں خریدتے۔ ایک دن ایک غریب لڑکا “علی” دکان پر آیا۔ اس کے پاس صرف چند سکے تھے۔ اس نے حسن چاچا سے کہا، “چاچا، کیا میں اس پیسے میں ایک پنسل لے سکتا ہوں؟” حسن چاچا نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، ضرور!” اچانک علی نے اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کہا، “میری ماں بیمار ہے اور میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہیں۔” حسن چاچا نے یہ سنا تو بہت اداس ہو گئے۔ انہوں نے فوراً علی کو دوائی اور کچھ کھانا دے دیا اور کہا، “بیٹا، پیسے بعد میں دینا، پہلے اپنی ماں کا خیال رکھو۔” علی بہت خوش ہوا اور دعا دینے لگا۔ کچھ دن بعد اس کی ماں ٹھیک ہو گئی۔ علی واپس آیا اور حسن چاچا کے پیسے بھی واپس کیے اور شکریہ ادا کیا۔ حسن چاچا نے کہا، “اصل خوشی دوسروں کی مدد کرنے میں ہے۔” سبق: دوسروں کی مدد کرنا سب سے بڑی نیکی ہے

"32ef5bad-d33f-4b57-b9b3-035cf5e55aa9"

0dd26159-8bd3-4804-a585-f8287a2e0e1a

تصور کریں۔ آپ سمندر کے بیچ میں ہیں۔ آس پاس ہزاروں کلومیٹر تک صرف پانی۔ نیلا پانی۔ گہرا پانی۔ وہ پانی جو آپ کی آنکھیں تو دیکھ سکتی ہیں لیکن دماغ یقین کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ اتنا پانی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کی کشتی الٹ چکی ہے۔ آپ نے آخری بار 119 دن پہلے انسان کو دیکھا تھا۔ 119 دن۔ چار ماہ۔ ایک موسم گرما، ایک خزاں، اور آدھا موسم سرما۔ آپ کا وزن آدھا رہ گیا ہے۔ آپ کی ہڈیاں باہر سے نظر آتی ہیں۔ آپ کی جلد ہڈیوں سے چپک گئی ہے۔ آپ کے بال جھڑ چکے ہیں۔ آپ کے دانت ڈھیلے ہو گئے ہیں۔ آپ کے ساتھی آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ چاروں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر مر جائیں گے۔ یہ نفرت اور ضرورت کا وہ رشتہ ہے جو صرف جہنم میں بنتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ پوری دنیا کو یقین نہیں کہ آپ زندہ ہیں۔ نہ صرف یہ کہ آپ زندہ ہیں، بلکہ لوگوں کو یقین نہیں کہ آپ کبھی زندہ تھے ہی۔ اخبارات آپ کو جھوٹا کہتے ہیں۔ ٹی وی اینکرز آپ پر ہنستے ہیں آپ کا مزاق اڑاتے ہیں اور لوگ آپ کے گھر کے باہر جمع ہو کر پتھر پھینکتے ہیں۔ آپ 119 دن تک سمندر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑی ۔ اور اب آپ کو اپنے سچا ثابت کرنے کے لیے دنیا سے لڑنا ہے۔ یہ ہے 1989 کی وہ کہانی جس نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ چار آدمی۔ ایک کشتی۔ 119 دن۔ اور ایک سچ جو آج تک تنازعہ بنا ہوا ہے۔ یہ کہانی ہے چار دوستوں کی جو ایک خوبصورت جزیرہ دیکھنے کا خواب پورا کرنے نکلے , لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ دنیا نے ان کو زندہ ماننے سے ہی انکار کر دیا

"0dd26159-8bd3-4804-a585-f8287a2e0e1a"

← Return to Studio