Free English Text to Speech

fad6a6ee-1b3e-470a-9b38-af0a6fedaccf

पानी निकालने के लिए.तो  और यह तीनों उसका मजाक उड़ा रहे होते हैं जो कि वह वर्जन था मैंथ्यु उन्हें कहता है कि उसे जेनिफर पसंद है तो यह सभी जेनिफर को परेशान करने का फैसला करते हैं अगले दिन जेनिफर जो अपने घर के बाहर आम कर रही होती है तो उस टाइम सेंडी और एंडी बोट लेकर उसकी शांति भंग करते हैं वह दोनों उसके सामने अपनी बोट घुमाते हैं जिसकी आवाज से जेनिफर काफी डिस्टरबेंस होती है और वहां से उठकर चली जाती है रात को जेनिफर जो अपनी किताब लिख रही होती है तो वह लड़के उसके घर के बाहर आकर चिल्लाने लगते हैं लेकिन जब जेनिफर बाहर जाती है तो वहां कोई नहीं होता जेनिफर उनकी इस हरकत से परेशान हो गई थी क्योंकि वह यहां शांति से काम करना चाहती थी लेकिन वह सभी उसे परेशान करके उसे काम नहीं करने दे रहे थे अगले दिन जब जेनिफर अपनी बोट पर रेस्ट कर रही होती है तो वह लड़के वहां पर उसे परेशान करते हैं वह जेनिफर की बोट के चक्कर काटते हैं जिससे जेनिफर को काफी गुस्सा आता है सेंडी जेनिफर की बोट की रस्सी  पकड़कर उसे अपनी बोट से उसे बांध देता है और वह लोग उसे घने जंगल की ओर ले जाते हैं जेनिफर उन पर वार करती है लेकिन वह लड़के नहीं रुकते यह देखकर जेनिफर वहां से भागने लगती है

Use these settings →

2026-03-12

fad6a6ee-1b3e-470a-9b38-af0a6fedaccf

ID: f34a008e-a54d-4d89-845b-c780252ed154

Created: 2026-03-12T08:37:46.012Z

More Shares

e2601c6e-c6ed-4f35-aa7e-a411a231caa3

یک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دکان دار “حسن چاچا” کی دکان بہت مشہور تھی۔ ان کی دکان میں کھانے پینے کی چیزیں، کھلونے اور سکول کا سامان ملتا تھا۔ بچے روزانہ ان کی دکان پر آتے اور خوشی سے چیزیں خریدتے۔ ایک دن ایک غریب لڑکا “علی” دکان پر آیا۔ اس کے پاس صرف چند سکے تھے۔ اس نے حسن چاچا سے کہا، “چاچا، کیا میں اس پیسے میں ایک پنسل لے سکتا ہوں؟” حسن چاچا نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، ضرور!” اچانک علی نے اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کہا، “میری ماں بیمار ہے اور میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہیں۔” حسن چاچا نے یہ سنا تو بہت اداس ہو گئے۔ انہوں نے فوراً علی کو دوائی اور کچھ کھانا دے دیا اور کہا، “بیٹا، پیسے بعد میں دینا، پہلے اپنی ماں کا خیال رکھو۔” علی بہت خوش ہوا اور دعا دینے لگا۔ کچھ دن بعد اس کی ماں ٹھیک ہو گئی۔ علی واپس آیا اور حسن چاچا کے پیسے بھی واپس کیے اور شکریہ ادا کیا۔ حسن چاچا نے کہا، “اصل خوشی دوسروں کی مدد کرنے میں ہے۔” سبق: دوسروں کی مدد کرنا سب سے بڑی نیکی ہے

"e2601c6e-c6ed-4f35-aa7e-a411a231caa3"

ca1a2e09-08c8-4ac7-9a89-50887b70e442

ایک خدا ترس بادشاہ کی کہانی بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک وسیع و عریض سلطنت تھی جس کا نام "نورستان" تھا۔ اس سلطنت کا بادشاہ "سلطان عبدالحلیم" تھا۔ وہ نہایت طاقتور، بہادر اور دانا حکمران تھا، مگر اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ نہایت خدا ترس اور عادل تھا۔ سلطان عبدالحلیم بچپن ہی سے دین دار تھا۔ اس کے والد بھی نیک دل بادشاہ تھے، جو اسے ہمیشہ یہ نصیحت کرتے تھے: "بیٹا! بادشاہی ایک امانت ہے، اور اللہ کے سامنے اس کا حساب بہت سخت ہوگا۔" یہ بات اس کے دل میں ایسی بیٹھ گئی کہ جب وہ تخت پر بیٹھا تو اس نے عہد کیا کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ کبھی ظلم نہیں کرے گا۔ عدل و انصاف کی مثال سلطان کا معمول تھا کہ وہ ہفتے میں ایک دن عام لوگوں کے درمیان بھیس بدل کر نکلتا، تاکہ اپنی رعایا کے حالات خود دیکھ سکے۔ ایک دن وہ سادہ کپڑے پہن کر شہر کے ایک غریب محلے میں گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت ایک سرکاری اہلکار کے خلاف فریاد کر رہی ہے۔ وہ کہہ رہی تھی: "اس نے میری زمین زبردستی لے لی ہے، اور کوئی میری سننے والا نہیں۔" سلطان نے یہ سنا تو اس کا دل کانپ اٹھا۔ اگلے دن اس نے دربار میں اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ واقعی وہ اہلکار ظلم کر رہا تھا۔ سلطان نے فوراً اس اہلکار کو معزول کر دیا، اس کی سزا مقرر کی اور بوڑھی عورت کو اس کی زمین واپس دلوا دی۔ پھر سلطان نے کہا: "اگر میں ایک مظلوم کی آہ نہ سن سکا تو میری بادشاہی کا کوئی فائدہ نہیں۔" اللہ کا خوف ایک رات سلطان اپنے محل میں عبادت کر رہا تھا۔ اس کے وزیر نے دیکھا کہ سلطان زار و قطار رو رہا ہے۔ وزیر نے پوچھا: "حضور! آپ کو کس بات کا غم ہے؟ آپ کے پاس سب کچھ ہے۔" سلطان نے جواب دیا: "مجھے اس دن کا خوف ہے جب اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ میں نے اپنی رعایا کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اگر ایک شخص بھی بھوکا سو گیا، تو میں کیا جواب دوں گا؟" یہ سن کر وزیر بھی خاموش ہو گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ قحط کا زمانہ ایک سال سلطنت میں شدید قحط پڑ گیا۔ فصلیں تباہ ہو گئیں، لوگ بھوکے مرنے لگے۔ سلطان نے فوراً حکم دیا کہ شاہی خزانہ عوام کے لیے کھول دیا جائے۔

"ca1a2e09-08c8-4ac7-9a89-50887b70e442"

← Return to Studio