Free Urdu Text to Speech

قلات۔ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لینے نئے قیمتوں کا تعین اور نئے کرایہ نامہ

chirp3-hd:Aoede

Use these settings →

2026-04-06

قلات۔ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لینے نئے قیمتوں کا تعین اور نئے کرایہ نامہ مقررکرنے سے متعلق اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا قلات رپورٹ نائب اسرار مینگل۔ اجلاس میں SSP قلات سید زاہد حسین شاہ ADC شاہنواز بلوچ تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی قلات اور خالق آباد کے ٹرانسپورٹرز یونین کے نمائندوں محمدانور محمدشہی درمحمد نورالدین قمبرانی سیف اللہ زہری ولی محمد محبوب علی رفیع اللہ اور پیٹرول پمپ مالکان آغاسرور احمدزئی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں کا جائزہ لیاگیا اور نئے قیمتیں مقرر کردیئے گئے۔ قلات میں ایرانی پیٹرول اورڈیزل کی قیمتیں 255 جبکہ خالق آباد میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 265 مقرر کردیاگیا۔ اسی طرح اجلاس میں قلات شہر سے دیگر شہروں پر چلنے والے گاڑیوں کے کرایوں کا جائزہ لیاگیا اور نئے کرایہ نامہ مقرر کردیاگیا۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ پیٹرول پمپ مالکان مقرر کردہ نئے نرخ نامون پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اسی طرع ٹرانسپورٹرز بھی نئے کرایہ نامے پر ہرصورت عمل کریں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سمیت کرایہ کی نگرانی کے لیئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس ایک مشترکہ کمیٹی بنایاجائیگا جو ہر روز پیٹرول پمپوں کا دورہ کرکے نرخنامے کا جائزہ لے گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے گی

ID: f1528b33-a045-44a4-b60a-46cd703b5647

Created: 2026-04-06T18:14:05.279Z

More Shares

187fb774-0d79-470c-b22a-e9cab2160ebc

Ek sunsaan gaon ke kone mein, mitti ki deewaron wale ghar ke bahar baithi yeh dadi maa... inki aankhon mein barson ki thakan aur hothon par ek gehri khamoshi hai. Suraj dhal raha hai, bilkul inki zindagi ki tarah, jahan ab sirf intezaar bacha hai. Waqt ka pahiya ghuma aur ek din inka beta, apni majbooriyaan peeche chhod kar, apna nanha sa bachcha dadi ki god mein daal gaya. Wo ek dardbhara 'alvida' tha, jahan dadi ne nam aankhon ke sath us masoom ko apne seene se laga liya. Ghar mein gareebi ka saaya tha, magar dadi ne himmat nahi haari. Wo khud bhooki so jaati, tel ke diye ki madham roshni mein bachche ko khana khilati, aur har subah use school bhejti taake uski kismat is andhere ghar se behtar ho sake. ​ Jab padhai ka kharcha badha, toh dadi ne apni aakhri nishani—apne sone ke kangan—bhi nikaal diye. Sunar ki dukaan par wo kangan dete waqt unke haath kaanp rahe the, par potay ke mustaqbil ke liye unhone apni mamta ka har zevar qurbaan kar diya. ​ Saal beet gaye, pota shehar chala gaya aur dadi akeli reh gayi. Ek raat, kamzor jism ne saath chhod diya. Seene mein dard liye, kaanpte haathon se unhone phone uthaya... sirf apne potay ki awaaz sunne ke liye. Magar dusri taraf se sirf khamoshi thi. ​ Baahar baarish ho rahi thi aur dadi ki nazrein darwaze par jami thin. Wo har aahat par samajhti ke shayad unka laadla wapas aa gaya hai. Magar darwaza khaali tha, aur wo intezaar unki aakhri saans tak chala. Jab wo shehar se wapas aaya, toh ghar khali tha. Wahan sirf dhool thi aur ek purana lifafa... jis par dadi ke aansuon ke nishaan aaj bhi taza the. Us chitthi mein dadi ne likha tha: "Beta, main chali gayi, par teri kamyabi ki dua hamesha tere saath rahegi."

"187fb774-0d79-470c-b22a-e9cab2160ebc"

40589d9f-e4b2-4519-8a08-2ad920bac075

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی کچھ مشہور ایجادات کسی بڑے منصوبے کا نتیجہ نہیں تھیں؟ بلکہ وہ ایک اچانک لمحے، ایک مسئلے، یا ایک سادہ تجربے سے وجود میں آئیں۔ آج ہم ایسی ہی تین دلچسپ کہانیاں سنیں گے—جو آپ کو آخر تک سوچنے پر مجبور کر دیں گی۔ کہانی 1: سیفٹی پن ایک شخص مالی پریشانی میں مبتلا تھا اور صرف 15 ڈالر کے قرض کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ بے خیالی میں ایک تار کو موڑ رہا تھا کہ اچانک اس نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ یہ شکل عام نہیں تھی—اس میں ایک ایسا نظام تھا جو خود بند ہو سکتا تھا اور چبھنے سے بچا سکتا تھا۔ یہی سادہ خیال بعد میں سیفٹی پن بن گیا۔ لیکن ضرورت کے تحت اس نے اس ایجاد کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا۔ وقت گزرتا گیا، اور یہی ایجاد دنیا بھر میں استعمال ہونے لگی۔ سوچنے کی بات یہ ہے: اگر وہ تھوڑا انتظار کرتا، تو کیا اس کی قسمت مختلف ہو سکتی تھی؟ کہانی 2: آلو کے چپس ایک مصروف باورچی خانے میں ایک شیف ایک گاہک کی بار بار شکایات سے تنگ آ چکا تھا۔ گاہک کو لگتا تھا کہ آلو نہایت موٹے اور نرم ہیں۔ آخرکار، شیف نے غصے میں آ کر آلو کو بہت باریک کاٹا، انہیں زیادہ دیر تک تلا، اور اوپر سے نمک ڈال دیا۔ اس کا مقصد گاہک کو خوش کرنا نہیں بلکہ اسے سبق سکھانا تھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر جب پلیٹ واپس آئی، تو وہ بالکل خالی تھی۔ گاہک کو یہ نیا انداز بے حد پسند آیا۔ یوں ایک حادثاتی تجربہ ایک نئی ایجاد بن گیا۔ یہ سوال ضرور ذہن میں آتا ہے: کیا ہر غلطی واقعی ناکامی ہوتی ہے؟ 🎥 کہانی 3: پیپسی ایک فارماسسٹ نے ایک ایسا مشروب تیار کیا جو اصل میں ہاضمے کے لیے دوا کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ وہ اسے اپنی دکان پر لوگوں کو پیش کرتا تھا۔ شروع میں یہ صرف ایک عام دوا تھی، لیکن آہستہ آہستہ لوگ اسے پسند کرنے لگے۔ وہ دوبارہ آنے لگے—صرف اس کے ذائقے کی وجہ سے۔ یہاں سے ایک نیا خیال پیدا ہوا، اور اس مشروب کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ وقت کے ساتھ، یہی چیز ایک عالمی مشروب بن گئی۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایک سادہ خیال بھی دنیا بدل سکتا ہے؟🎬

"40589d9f-e4b2-4519-8a08-2ad920bac075"

← Return to Studio