Free English Text to Speech

3f81fa2e-8ef1-471c-9100-d7cc66d57fec

امتحان کے بعد رزلٹ آیا تو علی نے پوری کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سب نے تالیاں بجائیں اور استاد فخر سے مسکرا رہے تھے۔

Use these settings →

2026-03-17

3f81fa2e-8ef1-471c-9100-d7cc66d57fec

ID: eed75e8b-ffa2-42f5-a7f6-956a57b72c0b

Created: 2026-03-17T17:09:06.543Z

More Shares

2a76ffe0-8055-4893-823d-43a9eea4cf0e

ان امیروں ، اُن کے وزیروں اور مشیروں کے حرم غیرمسلم لڑکیوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ زیادہ تر لڑکیاں یہودی اور عیسائی تھیں جنہیں خاص تربیت دے کر ان حرموں میں داخل کیا گیا تھا۔ غیر معمولی حسن اور اداکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سربراہوں کے کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح کھا رہی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ صلیبی جن میں فرینک (فرنگی) خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، مسلمانوں کی سلطنتوں کے ٹکڑے ہڑپ کرتے چلے جا رہے تھے اور بعض مسلم حکمران شاہ فرینک کو سالانہ ٹیکس یا جزیہ ادا کر رہے تھے جس کی حیثیت غنڈہ ٹیکس کی سی تھی ۔ صلیبی اپنی جنگی قوت کے رعب سے اور چھوٹے موٹے حملوں سے حکمرانوں کو ڈراتے رہتے ، کچھ علاقے پر قبضہ کر لیتے ، تاوان اور ٹیکس وصول کرتے تھے ۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ آہستہ آہستہ دنیائے اسلام کو ہڑپ کر لیا جائے ۔ مسلمان حکمران اپنی رعایا کا خون چوس کر ٹیکس دیتے رہتے تھے ۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ انہیں عیش و عشرت میں پریشان نہ کیا جائے ۔ فرقہ پرستی کے بیج بھی بو دیئے گئے تھے ۔ ان میں سب سے زیادہ خطر ناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا جو صلاح الدین ایوبی کی جوانی سے ایک صدی پہلے معرض وجود میں آیا تھا ۔ یہ مفاد پرستوں کا فرقہ تھا ، بے حد خطر ناک اور پراسرار ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو فدائی، کہلاتے تھے جو بعد میں حشیشین کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ وہ حشیش نام کی ایک نشہ آور شے سے دوسروں کو اپنے جال میں پھانستے تھے۔

"2a76ffe0-8055-4893-823d-43a9eea4cf0e"

← Return to Studio