Free Hindi Text to Speech

नमस्ते… केयरवाइज़ में आपका स्वागत है

chirp3-hd:Aoede

Use these settings →

2026-04-09

नमस्ते… केयरवाइज़ में आपका स्वागत है। हमें आपकी सेवा का अवसर देने के लिए हम आभारी हैं। कुछ जरुरी सुचना आपके साथ शेयर करना चाहते है। १ आपकी सुविधा के लिए, इनवॉइस हर महीने की 1 और 15 तारीख को भेजे जाएंगे, जिनका आप ऑनलाइन पेमेंट कर सकते हैं। २ फीडबैक या पेमेंट से संबंधित प्रश्न के लिए, कृपया स्टाफ के बजाय सीधे मैनेजमेंट से संपर्क करें। ३ स्टाफ के पेमेंट और आपके पेमेंट की चर्चा स्टाफ के साथ कबि न करे, उनके पूछने परभी नहीं ४ अपनी कीमती चीजें लॉकर में रखे और किसी भी प्रकार का पासवर्ड या ओटीपी शेर ना करे। ५ कृपया हमारे स्टाफ को सहयोग करें और उन्हें आपके साथ सेट होने का थोड़ा समय दें। स्टाफ से अच्छे और लंबे समय तक काम लेने के लिए, कृपया उन्हें परिवार के सदस्य जैसा मानें। कृपया एग्रीमेंट और टर्म्स एंड कंडीशन्स ध्यान से पढ़ लीजिए। और ये सभी जानकारी अपने परिवार के सदस्यों को बताएं, जिससे वे भी इन सूचनाओं को जान सकें। आपका धन्यवाद।

ID: e1b5cf4b-f5f6-40e8-8190-52097cb6d8dd

Created: 2026-04-09T18:45:45.894Z

More Shares

c1fa0c0b-4743-4699-9547-a90ea6710d59

اب جبکہ صلاح الدین ایوبی کو یہ توقع تھی کہ اس کا چچا زاد بھائی الصالح اور امیر سیف الدین شکست کھا کر تو بہ کر چکے ہوں گے ، انہوں نے انتقام کی ایک اور زیر زمیں کوشش کی ۔ صلاح الدین ایوبی نے اس فتح کا جشن منانے کی بجائے حملے جاری رکھے اور تین قصبوں کو قبضے میں لے لیا ۔ ان میں غازہ کا مشہور قصبہ بھی تھا ۔ اسی قصبے کے گرد و نواح میں ایک روز صلاح الدین ایوبی ، امیر جا والا سدی کےخیمے میں دوپہر کے وقت غنودگی کے عالم میں سنتا رہا تھا ۔ اُس نے اپنی وہ پگڑی نہیں اناری تھی جو میدان جنگ میں اُس کے سر کو صحرا کے سورج اور دشمن کی تلوار سے محفوظ رکھتی تھی۔ جیسے کے باہر اس کے محافظوں کا دستہ موجود اور چوکس تھا۔ باڈی گارڈز کے اس دستے کا کمانڈر ذرا سی دیر کے لیے وہاں سے چلا گیا۔ ایک محافظ نے صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے گرے ہوئے پردوں میں سے جھانکا۔ اسلام کی عظمت کے پاسبان کی آنکھیں بند تھیں۔ وہ پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اس محافظ نے باڈی گارڈز کی طرف دیکھا ۔ ان میں سے تین چار باڈی گارڈز نے اس کی طرف دیکھا ۔ محافظ نے اپنی آنکھیں بند کر کے کھولیں ۔ تین چار محافظ اٹھے اور دوسروں کو باتوں میں لگا لیا محافظہ خیمے میں چلا گیا ۔ کمر بند سے تیر نکالا۔ دبے پاؤں چلا اور پھر چیتے کی طرح سوئے ہوئے صلاح الدین ایوبی پر جست لگائی ۔ خنجر والا ہاتھ اوپر اُٹھا۔ عین اُس وقت صلاح الدین ایوبی نے کروٹ بدل لی ۔

"c1fa0c0b-4743-4699-9547-a90ea6710d59"

← Return to Studio