Free English Text to Speech

3dd7c046-7f12-4adb-9d96-f9a42de68494

Aur jab Country M ke elite agents aur secret spies China me ghuskar raaz churane ki planning kar rahe the… Xiao Yi ne unka bhi brutal cleanup kar diya. Country M ke kai legendary agents ek ke baad ek mare. Tab jaa kar unhe samajh aaya ki Xiao Yi ka naam underworld me itna heavy kyun hai. Us din ke baad foreign spies ke liye bhi China ek nightmare ban gaya. Chahe kitna hi trained ho, chahe kitna hi skilled agent ho—China me pair rakhne se pehle sau baar sochta tha.

Use these settings →

2026-03-30

3dd7c046-7f12-4adb-9d96-f9a42de68494

ID: daad7cad-fb0d-4eab-9a39-f9b482c56ea2

Created: 2026-03-30T04:08:44.168Z

More Shares

1e905a59-68e9-4889-aa8b-9931147daf21

یہ پرانے وقتوں کی بات ہے، جب پہاڑوں کے دامن میں ایک خوبصورت گاؤں بسا ہوا تھا۔ اس گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے، عورت کا نام ہنی اور مرد کا نام پریت تھا۔ پریت روزانہ جنگل جاتا، وہاں سے لکڑیاں کاٹتا اور پھر انہیں بازار میں بیچ کر اپنا گزارا کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دن ہنی پانی بھر رہی تھی کہ اچانک اس نے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ اسے اپنے چہرے پر کچھ عجیب سے داغ اور زخم نظر آئے۔ وہ بہت حیران اور پریشان ہو گئی کہ آخر یہ داغ کیسے بن گئے۔ وہ اسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ پریت گھر آیا۔ اس نے پوچھا: "ہنی! تم اتنی پریشان کیوں ہو؟" ہنی نے کہا: "پریت! ذرا میرے چہرے کو دیکھو، یہ اچانک کیسے داغ پڑ گئے ہیں؟" پریت نے اسے تسلی دی اور کہا: "ہنی، گھبراؤ مت، خدا اچھا کرے گا، ہم حکیم کے پاس چلیں گے۔" دونوں حکیم کے پاس گئے، پریت نے ساری صورتحال بیان کی لیکن حکیم کی باتوں سے ہنی کو اپنی بیماری کی سنگینی کا اندازہ ہو گیا اور وہ اندر سے ٹوٹ گئی۔ وہ اب ہر وقت خاموش اور اداس رہنے لگی۔ پریت اسے دیکھ کر بہت تڑپتا لیکن ہنی کا مرض بڑھتا گیا، یہاں تک کہ اس کے سر کے بال گرنا شروع ہو گئے اور وہ بالکل گنجی ہو گئی۔ اب ہنی کو پریت کے سامنے آنے میں شرم محسوس ہوتی تھی، وہ اس سے نظریں چراتی اور تنہائی میں بیٹھی رہتی۔ پریت اسے روزانہ تسلی دیتا کہ "میں تم سے ہر حال میں محبت کرتا ہوں"، مگر ہنی کا غم کم نہ ہوتا۔ ایک دن پریت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک ایک درخت اس پر گر پڑا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ جب یہ خبر ہنی تک پہنچی تو وہ تڑپ اٹھی۔ اس حادثے میں پریت کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور اس کی آنکھوں کی بینائی بھی چلی گئی۔ ہنی نے روتے ہوئے کہا: "پریت، مجھے بہت دکھ ہے کہ تمہاری آنکھیں چلی گئیں۔" پریت نے جواب دیا: "ہنی، تم غم نہ کرو، مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میں اندھا ہو چکا ہوں، بس تم میرے پاس رہو۔" اب ہنی کو سکون مل گیا کیونکہ اسے پریت سے چھپنے یا شرمانے کی ضرورت نہیں تھی، اسے لگتا تھا کہ پریت اسے دیکھ نہیں سکتا۔ پریت اکثر کہتا: "میں معذور ہو گیا ہوں، آنکھیں بھی نہیں رہیں، اب گھر کا خرچہ کیسے چلے گا؟" ہنی اسے دلاسا دیتی کہ "تم فکر نہ کرو، خدا اچھا کرے گا، میں محنت کروں گی۔" ہنی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی، پسائی کرتی اور جو پیسے ملتے اس سے گھر چلاتی۔

"1e905a59-68e9-4889-aa8b-9931147daf21"

← Return to Studio