Free English Text to Speech

4b5b7c07-8d4c-430c-89df-90ecc27eb11e

تھے۔ شیرُو ہر روز کسی نہ کسی جانور کا شکار کرتا اور جنگل میں اپنی طاقت دکھاتا رہتا تھا۔ سب جانور پریشان ہو گئے اور سوچا کہ کچھ کرنا پڑے گا۔ ایک دن سب جانور مل کر فیصلہ کیا کہ ہر روز ایک جانور خود شیر کے پاس جائے گا تاکہ باقی جانور محفوظ رہیں۔ ایک دن چھوٹے اور چالاک خرگوش چِنٹو کی باری آئی۔ چِنٹو نے دھیرے دھیرے شیر کے پاس جانا شروع کیا۔ شیرُو غصے میں گرّایا: “تم اتنی دیر سے کیوں آئے؟!” چِنٹو نے ڈرتے ہوئے جواب دیا: “راستے میں ایک اور شیر مل گیا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس جنگل کا اصلی بادشاہ ہے۔” شیرُو اور بھی غصے میں آ گیا اور بولا: “مجھے دکھاؤ وہ کون ہے!” چِنٹو اسے ایک گہرے کنویں کے پاس لے گیا اور بولا: “وہ اندر ہے!” شیرُو نے کنویں میں جھانکا اور اپنی ہی پرچھائی دیکھ لی۔ شیرُو نے سوچا کہ یہ دوسرا شیر ہے اور غصے میں زور سے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ چھلانگ لگانے کے بعد شیرُو کنویں میں ڈوب گیا۔ جنگل کے سب جانور خوش ہو گئے۔ چِنٹو خرگوش کی چالاکیوں کی وجہ سے سب کی جان بچ گئی۔ اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ عقل اور چالاک دماغ طاقت سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اور گھمنڈ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔

Use these settings →

2026-04-05

4b5b7c07-8d4c-430c-89df-90ecc27eb11e

ID: b3100ad6-d6b5-4a3a-ab34-b19567656d8e

Created: 2026-04-05T08:12:42.580Z

More Shares

2a76ffe0-8055-4893-823d-43a9eea4cf0e

ان امیروں ، اُن کے وزیروں اور مشیروں کے حرم غیرمسلم لڑکیوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ زیادہ تر لڑکیاں یہودی اور عیسائی تھیں جنہیں خاص تربیت دے کر ان حرموں میں داخل کیا گیا تھا۔ غیر معمولی حسن اور اداکاری میں کمال رکھنے والی یہ لڑکیاں مسلمان حکمرانوں اور سربراہوں کے کردار اور قومی جذبے کو دیمک کی طرح کھا رہی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ صلیبی جن میں فرینک (فرنگی) خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، مسلمانوں کی سلطنتوں کے ٹکڑے ہڑپ کرتے چلے جا رہے تھے اور بعض مسلم حکمران شاہ فرینک کو سالانہ ٹیکس یا جزیہ ادا کر رہے تھے جس کی حیثیت غنڈہ ٹیکس کی سی تھی ۔ صلیبی اپنی جنگی قوت کے رعب سے اور چھوٹے موٹے حملوں سے حکمرانوں کو ڈراتے رہتے ، کچھ علاقے پر قبضہ کر لیتے ، تاوان اور ٹیکس وصول کرتے تھے ۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ آہستہ آہستہ دنیائے اسلام کو ہڑپ کر لیا جائے ۔ مسلمان حکمران اپنی رعایا کا خون چوس کر ٹیکس دیتے رہتے تھے ۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ انہیں عیش و عشرت میں پریشان نہ کیا جائے ۔ فرقہ پرستی کے بیج بھی بو دیئے گئے تھے ۔ ان میں سب سے زیادہ خطر ناک فرقہ حسن بن صباح کا تھا جو صلاح الدین ایوبی کی جوانی سے ایک صدی پہلے معرض وجود میں آیا تھا ۔ یہ مفاد پرستوں کا فرقہ تھا ، بے حد خطر ناک اور پراسرار ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو فدائی، کہلاتے تھے جو بعد میں حشیشین کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ وہ حشیش نام کی ایک نشہ آور شے سے دوسروں کو اپنے جال میں پھانستے تھے۔

"2a76ffe0-8055-4893-823d-43a9eea4cf0e"

← Return to Studio