جہاں اسلامی تصورِ زینت جدید فیشن کلچر سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ اسلام میں زینت کا تعلق شکر اور وقار سے ہے، نہ کہ نمائش اور مقابلہ سے۔ جب انسان زینت کو دوسروں پر برتری جتانے یا توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لے تو یہی چیز اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ فیشن کلچر حسن کو مقابلہ بنا دیتا ہے، جس میں ہر شخص دوسرے سے زیادہ نمایاں نظر آنا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حسد، احساسِ کمتری اور عدمِ اطمینان جنم لیتا ہے۔ اسلام اس ذہنی کیفیت کو پسند نہیں کرتا۔ شریعت انسان کو اندرونی سکون اور اعتدال کی طرف لے جاتی ہے۔ مسلم عورت کی دینی شناخت اسلامی معاشرے میں عورت کی شناخت محض اس کے لباس یا ظاہری انداز سے نہیں بلکہ اس کے ایمان، حیا اور وقار سے قائم ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید عورت کو جاہلی طرزِ زندگی اور غیر ضروری نمائش سے واضح طور پر روکتا ہے (الاحزاب: 33)۔ یہ ہدایت کسی سماجی قید کے لیے نہیں بلکہ عورت کے مقام و مرتبے کو بلند رکھنے کے لیے ہے۔ اسلام عورت کو ایک باوقار، بااصول اور ذمہ دار فرد کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ محض نمائش کی شے کے طور پر۔ جدید فیشن کلچر عورت کی پہچان کو اس کی ظاہری کشش، لباس اور انداز تک محدود کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی فکری اور اخلاقی حیثیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔اسلام میں عورت کا لباس، گفتگو، نشست و برخاست اور عمومی طرزِ عمل اس کے دین کی عملی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے عورت کو ایسے انداز سے جینے کی تعلیم دی ہے جو اس کی شناخت کو محفوظ رکھے۔ اگر شناخت کمزور ہو جائے تو آہستہ آہستہ اقدار، حیا اور اخلاقی حدود بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اسی لیے اسلام شناخت کی حفاظت کو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔ عورت کا وقار اس کی آزادی نہیں چھینتا بلکہ اسے بے قدری سے بچاتا ہے
Use these settings →2026-04-07
2c97140f-209e-4f12-948f-9cc984b1f106
ID: b0764370-0601-4c6c-9972-1ae5707d0fc7
Created: 2026-04-07T11:39:29.070Z